Showing posts with label غلام رسول اشرف. Show all posts
Showing posts with label غلام رسول اشرف. Show all posts

Friday, 14 October 2022

جب خود ہی احتیاط کی سرحد سے دور تھا

 جب خود ہی احتیاط کی سرحد سے دور تھا

کیسے کروں گلہ کہ میں زخموں سے چور تھا

میں نے ہی راستے سے ہٹائے تھے سارے خار

میں نے یہ کب کہا ہے کہ میں بے قصور تھا

ممکن نہیں تھا دوستو! اپنا محاصرہ

درباریوں میں کوئی تو مخبر ضرور تھا

Tuesday, 4 October 2022

کھو جائے گا وجود بکھر کر فضاؤں میں

 کھو جائے گا وجود بکھر کر فضاؤں میں

کب تک اڑے گا زخمی پرندہ ہواؤں میں

شہروں کی بھیڑ نے تو بصارت ہی چھین لی

تصویر اپنی دیکھیں گے چل کر گپھاؤں میں

فکروں کے دائروں سے نکلنا محال ہے

جاؤ، بساؤ شوق سے دنیا خلاؤں میں

Friday, 10 June 2022

جتنی سچی مری کہانی ہے

جتنی سچی مِری کہانی ہے

سب کو اتنی ہی بدگمانی ہے

لاپتہ ہے بہار برسوں سے

معتبر پھر بھی باغبانی ہے

آگ کھلنے لگی ہے شاخوں پر

جانے یہ کس کی گُلفشانی ہے

Monday, 6 June 2022

سر پر ہے سائبان نہ تن پر لباس ہے

 سر پر ہے سائبان، نہ تن پر لباس ہے

اک سکۂ خلوص ہی لے دے کے پاس ہے

جائیں بھی اپنے زخم لیے کس کے پاس ہم

مرہم منافقت کا یاں سب کے پاس ہے

نفرت کی آگ پھیلنے پائے نہ دوستو

بارود ہے کہیں، تو کہیں پر کپاس ہے

Friday, 21 May 2021

دلوں میں رنجشیں ہیں یہ کس کی سازشیں ہیں

دلوں میں رنجشیں ہیں

یہ کس کی سازشیں ہیں

میں پھر بھی ڈر رہا ہوں

خبر ہے بخششیں ہیں

اگر 💝 دل آئینہ ہو

بہت گنجائشیں ہیں