جب خود ہی احتیاط کی سرحد سے دور تھا
کیسے کروں گلہ کہ میں زخموں سے چور تھا
میں نے ہی راستے سے ہٹائے تھے سارے خار
میں نے یہ کب کہا ہے کہ میں بے قصور تھا
ممکن نہیں تھا دوستو! اپنا محاصرہ
درباریوں میں کوئی تو مخبر ضرور تھا
جب خود ہی احتیاط کی سرحد سے دور تھا
کیسے کروں گلہ کہ میں زخموں سے چور تھا
میں نے ہی راستے سے ہٹائے تھے سارے خار
میں نے یہ کب کہا ہے کہ میں بے قصور تھا
ممکن نہیں تھا دوستو! اپنا محاصرہ
درباریوں میں کوئی تو مخبر ضرور تھا
کھو جائے گا وجود بکھر کر فضاؤں میں
کب تک اڑے گا زخمی پرندہ ہواؤں میں
شہروں کی بھیڑ نے تو بصارت ہی چھین لی
تصویر اپنی دیکھیں گے چل کر گپھاؤں میں
فکروں کے دائروں سے نکلنا محال ہے
جاؤ، بساؤ شوق سے دنیا خلاؤں میں
جتنی سچی مِری کہانی ہے
سب کو اتنی ہی بدگمانی ہے
لاپتہ ہے بہار برسوں سے
معتبر پھر بھی باغبانی ہے
آگ کھلنے لگی ہے شاخوں پر
جانے یہ کس کی گُلفشانی ہے
سر پر ہے سائبان، نہ تن پر لباس ہے
اک سکۂ خلوص ہی لے دے کے پاس ہے
جائیں بھی اپنے زخم لیے کس کے پاس ہم
مرہم منافقت کا یاں سب کے پاس ہے
نفرت کی آگ پھیلنے پائے نہ دوستو
بارود ہے کہیں، تو کہیں پر کپاس ہے
دلوں میں رنجشیں ہیں
یہ کس کی سازشیں ہیں
میں پھر بھی ڈر رہا ہوں
خبر ہے بخششیں ہیں
اگر 💝 دل آئینہ ہو
بہت گنجائشیں ہیں