Tuesday, 4 October 2022

کھو جائے گا وجود بکھر کر فضاؤں میں

 کھو جائے گا وجود بکھر کر فضاؤں میں

کب تک اڑے گا زخمی پرندہ ہواؤں میں

شہروں کی بھیڑ نے تو بصارت ہی چھین لی

تصویر اپنی دیکھیں گے چل کر گپھاؤں میں

فکروں کے دائروں سے نکلنا محال ہے

جاؤ، بساؤ شوق سے دنیا خلاؤں میں

ایسی گُھٹن تو پہلے کبھی بھی نہ تھی یہاں

یہ کس نے زہر گھول دیا ہے ہواؤں میں

کوئی تو ہو سفر کی جو ترغیب دے مجھے

بیٹھا ہوا ہوں دیر سے برگد کی چھاؤں میں


غلام رسول اشرف

No comments:

Post a Comment