اے چشمِ بِینا سنو، تو خوابوں کے آدمی ہیں
اے مہ وشاں ہم بھی ماہتابوں کے آدمی ہیں
سفر میں اُجڑے دیار کی ساری خوشبوئیں ہیں
اے عشق ہم بھی تِرے خرابوں کے آدمی ہیں
اسی لیے تو ہماری تم سے بنی نہیں ہے
ہم عہدِ نو میں قدیم سوچوں کے آدمی ہیں
اے دشتِ لیلیٰ! جنوں کی منزل گزار آئے
اور اب سراسر تِرے سرابوں کے آدمی ہیں
کوئی تو کہ دے اے ناقۂ غم ٹھہر بھی جاؤ
کہ ہم بھی محمل کے، سارباںوں کے آدمی ہیں
زمیں پہ ابرِ سفید اُترے تو اس سے کہنا
کہ ہم زمینوں پہ آسمانوں کے آدمی ہیں
چلے ہی جائیں گے تیری گلیوں سے رخت لے کر
کہ ہم بھی اشکر! سفر زمانوں کے آدمی ہیں
اشکر فاروقی
No comments:
Post a Comment