Showing posts with label تسنیم عابدی. Show all posts
Showing posts with label تسنیم عابدی. Show all posts

Wednesday, 31 July 2024

فضائے حسن تخیل پہ چھا رہے ہیں علی

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


فضائے حُسنِ تخیّل پہ چھا رہے ہیں علیؑ 

بمثلِ کعبہ مِرا دل سجا رہے ہیں علیؑ 

کہا ہے کعبے کی دیوار نے یہ ہنستے ہوئے 

خدا کے  گھر میں سُنا ہے کہ آ رہے ہیں علیؑ 

لحد کے گوشۂ تنہائی کے اندھیرے میں 

چراغِ نُورِ ولایت جلا رہے ہیں علیؑ

Monday, 15 July 2024

اوج امکان بشر کا سلسلہ ہے کربلا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


اوجِ امکانِ بشر کا سلسلہ ہے کربلا

عبدیت کی شانِ تسلیم و رضا ہے کربلا

رُوح ہو بیمار تو خاکِ شفا ہے کربلا

خالقِ اکبر کا زندہ معجزہ ہے کربلا

غمگساری، دوست داری ، بیقراری کے لیے

کربلا ہے، کربلا ہے، کربلا ہے کربلا

Thursday, 6 July 2023

ہے نعت رقم کرنی مدحت کا سلیقہ دے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


ہے نعت رقم کرنی مدحت کا سلیقہ دے

اک لفظ ہی ایسا دے جو نعت کو چمکا دے

سرکارِ دو عالمﷺ کا جب نام قلم لکھے

اک سجدۂ تعظیمی قرطاس پہ خامہ دے

اس ظلمتِ عالم میں ہو کام ضیا پاشی

تو میرے چراغوں کو مالک وہ اُجالا دے

Tuesday, 20 June 2023

جلوۂ نور محمد کا جو سامان ہوا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


جلوۂ نورِ محمدﷺ کا جو سامان ہوا

عالمِ خاک پہ اللہﷻ کا احسان ہوا

اپنی مخلوق پہ اللہﷻ مہربان ہوا

ہم گنہگاروں کی بخشش کا بھی امکان ہوا

رنگ اور نور صبا اور مہک پھیل گئی

میرے سرکارؐ کی آمد کا جو اعلان ہوا

Wednesday, 11 August 2021

نیزے پہ کیا تھا جو سفر یاد رہے گا

 عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ بر امام حسینؑ


نیزے پہ کیا تھا جو سفر یاد رہے گا

قرآن 🕮 سُناتا ہُوا سر یاد رہے گا

پردیس میں اک دن میں جو برباد ہُوا تھا

زہراؑ کا وہ اُجڑا ہوا گھر یاد رہے گا

ہر زخمِ تمنا کو بُھلا سکتی ہے لیکن

ماں کو علی اکبرؑ کا جگر یاد رہے گا

Wednesday, 26 May 2021

کسی نے پوچھا جو عمر رواں کے بارے میں

 کسی نے پوچھا جو عمر رواں کے بارے میں

تو کیا بتائیں گے سود و زیاں کے بارے میں

حریم دیدہ وری! خاک اڑ رہی ہے مری

میں جانتی تھی غبار مکاں کے بارے میں

نہ جانے کیسی گزرتی ہے جانے والوں پر

کوئی بتاتا نہیں رفتگاں کے بارے میں

Saturday, 10 February 2018

بڑے تپاک سے بھیجا سلام وحشت نے

بڑے تپاک سے بھیجا سلام وحشت نے
سکوت میں کِیا ہم سے کلام وحشت نے
تمہِیں بتاؤ کہ ہم خود سے بچ کے جائیں کہاں
ہمیں تو سونپ دیا سارا کام وحشت نے
امورِ سلطنتِ دل کی خیر ہو یا رب
یہاں سنبھالا ہے سب انتظام وحشت نے

وحشت رفتہ رفتہ مجھ میں خاک اڑا کے بیٹھی ہے

وحشت رفتہ رفتہ مجھ میں خاک اڑا کے بیٹھی ہے
دھڑکن خاموشی کی صورت شور مچا کے بیٹھی ہے
رات تمناؤں کے زیور تن پہ میرے سجتے رہے
صبحِ حسرت من کو نیا گہنا پہنا کے بیٹھی ہے
چوبِ جاں سے دیر تلک کل رات دھواں اٹھتے دیکھا
خیمۂ دل کو ایک تمنا آگ لگا کے بیٹھی ہے

رقص فسوں

رقصِ فسوں

میں جو مشرق کے شبستانوں میں مصلوب ہوئی
میں جو مے خانۂ مغرب سے بھی منسوب ہوئی
پہلے تقدیس کے ناموں پہ مِرا سودا ہوا
اپنی حُرمت کا میں تاوان ادا کرتی رہی
اب بھی بازارِ تصرّف میں بہت سستی ہوں
اب بھی بکتی ہوں تو قیمت بھی مجھے ملتی نہیں

ایک سناٹا سا تقریر میں رکھا گیا تھا

ایک سناٹا سا تقریر میں رکھا گیا تھا 
خواب ہی خواب کی تعبیر میں رکھا گیا تھا
آگہی روز ڈراتی رہی منزل سے، مگر 
حوصلہ پاؤں کی زنجیر میں رکھا گیا تھا
کون بِسمل تھا بتا ہی نہیں سکتا کوئی 
زخمِ دل سینۂ شمشیر میں رکھا گیا تھا

Wednesday, 21 December 2016

مرے چارہ گر تجھے کیا خبر جو عذاب ہجر و وصال ہے

مِرے چارہ گر تجھے کیا خبر جو عذابِ ہجر و وصال ہے
یہ دریدہ تن یہ دریدہ من، تِری چاہتوں کا کمال ہے
مجھے سانس سانس گراں لگے، یہ وجود وہم و گماں لگے 
میں تلاش خود کو کہاں کروں مِری ذات خواب و خیال ہے
وہ جو چشمِ تر میں ٹھہر گیا، وہ ستارہ جانے کدھر گیا 
نہ نشاطِ غم کا ہجوم اب، نہ ہی سبز یاد کی ڈال ہے

ہم سے آشفتہ مزاجوں کا پتہ پوچھتی ہے

ہم سے آشفتہ مزاجوں کا پتہ پوچھتی ہے
کتنے باقی ہیں دِیے روز ہوا پوچھتی ہے
روز کلیوں کو کھلاتے ہوئے کرتی ہے سوال
کس کے دامن کی مہک ہے یہ صبا پوچھتی ہے
کس جگہ تجھ کو ٹھہرنا ہے تمنائے جہاں
لڑکھڑاتے ہوئے یہ لغزشِ پا پوچھتی ہے

راز کا بزم میں چرچا کبھی ہونے نہ دیا

راز کا بزم میں چرچا کبھی ہونے نہ دیا
ہم نے اپنے کو تماشا کبھی ہونے نہ دیا
ہم کو اِس گردشِ دوراں نے کہیں کا نہ رکھا
پھر بھی لہجے کو شکستہ کبھی ہونے نہ دیا
میکدے میں بڑے کم ظرف تھے پینے والے
آنکھ کو ساغر و مِینا کبھی ہونے نہ دیا

اس بار ہوا کن کا اثر اور طرح کا

اس بار ہوا کُن کا اثر اور طرح کا
اس بار ہے امکانِ بشر اور طرح کا
اس بار مدینے ہی میں در آیا تھا کوفہ
اس بار کیا ہم نے سفر اور طرح کا
اس بار نہ اسباب، نہ چادر پہ نظر تھی
اس بار تھا لٹنے کا خطر اور طرح کا

Sunday, 10 April 2016

فراق ہجرِ یار میں عجیب حال ہو گیا

فراقِ ہجرِ یار میں عجیب حال ہو گیا
عجیب حال ہو گیا، تو پھر وصال ہو گیا
'وہ کہہ رہا تھا 'زندگی گزارنا محال ہے
'وہ مجھ سے کہہ رہا ہے 'یار یہ کمال ہو گیا
میں شدتِ بیان سے نکل سکوں تو پھر کہوں
کہ میرا لہجۂ سکوت بے مثال ہو گیا

تم میرے درد دل میں شرکت نہیں کرو

تم میرے دردِ دل میں شرکت نہیں کرو
سرمایۂ حیات پہ حیرت نہیں کرو
آنچل کو میرے سر سے اُڑنے کی جستجو
اے موجۂ ہوا!، یہ شرارت نہیں کرو
اے دورِ بے ہنر! یہاں تسکینِ ذوق میں
گر ہاتھ بھی قلم ہو تو حیرت نہیں کرو

کوزہ گری کے شوق میں حد سے گزر گئے

کوزہ گری کے شوق میں حد سے گزر گئے
آئے جو دن بہار کے سب پھول مر گئے
رستے پہ قافلے کو لگا کر گزر گئے
اپنے ہنر سے گیسوئے گیتی سنور گئے
کس کا خیال حسنِ تصور میں آ گیا
دیکھو تفکرات کے چہرے سنور گئے

Monday, 4 April 2016

کیوں شناسائی کا گہرا زخم بھرتا ہی نہیں

کیوں شناسائی کا گہرا زخم بھرتا ہی نہیں 
دل تو کب کا مر گیا، ارمان مرتا ہی نہیں؟
آس کے سارے ستارے جھلملا کر بجھ گئے
اے شبِ فرقت! مِرا سورج ابھرتا ہی نہیں
خواہشوں کی سوگواری زیست کی بے چہرگی
اے غمِ دنیا! تِرا چہرہ سنورتا ہی نہیں

تم زیست گزاری کا ہنر بھول نہ جانا

تم زیست گزاری کا ہنر بھول نہ جانا
آ جائے سفر راس تو گھر بھول نہ جانا
اے چارہ گرو درد کے بڑھنے کی دوا دو
اے بے خبرو! میری خبر بھول نہ جانا
دی خانہ بدوشی نے مجھے کہہ کے تسلی
ہے زیست کا مقصد ہی سفر بھول نہ جانا

تسنیم عابدی

اپنے سوا کسی کی ہمیں جستجو نہ ہو

اپنے سوا کسی کی ہمیں جستجو نہ ہو
اب آرزو یہی ہے کوئی آرزو نہ ہو
دل ٹوٹا تو خدا مِرے نزدیک آ گیا
آوازِ آہ میں کہیں پوشیدہ 'ہُو' نہ ہو
بے عشق آدمی کی حقیقت یہی تو ہے
اک ایسا پھول جس میں کوئی رنگ و بو نہ ہو