عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
فضائے حُسنِ تخیّل پہ چھا رہے ہیں علیؑ
بمثلِ کعبہ مِرا دل سجا رہے ہیں علیؑ
کہا ہے کعبے کی دیوار نے یہ ہنستے ہوئے
خدا کے گھر میں سُنا ہے کہ آ رہے ہیں علیؑ
لحد کے گوشۂ تنہائی کے اندھیرے میں
چراغِ نُورِ ولایت جلا رہے ہیں علیؑ
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
فضائے حُسنِ تخیّل پہ چھا رہے ہیں علیؑ
بمثلِ کعبہ مِرا دل سجا رہے ہیں علیؑ
کہا ہے کعبے کی دیوار نے یہ ہنستے ہوئے
خدا کے گھر میں سُنا ہے کہ آ رہے ہیں علیؑ
لحد کے گوشۂ تنہائی کے اندھیرے میں
چراغِ نُورِ ولایت جلا رہے ہیں علیؑ
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
اوجِ امکانِ بشر کا سلسلہ ہے کربلا
عبدیت کی شانِ تسلیم و رضا ہے کربلا
رُوح ہو بیمار تو خاکِ شفا ہے کربلا
خالقِ اکبر کا زندہ معجزہ ہے کربلا
غمگساری، دوست داری ، بیقراری کے لیے
کربلا ہے، کربلا ہے، کربلا ہے کربلا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ہے نعت رقم کرنی مدحت کا سلیقہ دے
اک لفظ ہی ایسا دے جو نعت کو چمکا دے
سرکارِ دو عالمﷺ کا جب نام قلم لکھے
اک سجدۂ تعظیمی قرطاس پہ خامہ دے
اس ظلمتِ عالم میں ہو کام ضیا پاشی
تو میرے چراغوں کو مالک وہ اُجالا دے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
جلوۂ نورِ محمدﷺ کا جو سامان ہوا
عالمِ خاک پہ اللہﷻ کا احسان ہوا
اپنی مخلوق پہ اللہﷻ مہربان ہوا
ہم گنہگاروں کی بخشش کا بھی امکان ہوا
رنگ اور نور صبا اور مہک پھیل گئی
میرے سرکارؐ کی آمد کا جو اعلان ہوا
عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ بر امام حسینؑ
نیزے پہ کیا تھا جو سفر یاد رہے گا
قرآن 🕮 سُناتا ہُوا سر یاد رہے گا
پردیس میں اک دن میں جو برباد ہُوا تھا
زہراؑ کا وہ اُجڑا ہوا گھر یاد رہے گا
ہر زخمِ تمنا کو بُھلا سکتی ہے لیکن
ماں کو علی اکبرؑ کا جگر یاد رہے گا
کسی نے پوچھا جو عمر رواں کے بارے میں
تو کیا بتائیں گے سود و زیاں کے بارے میں
حریم دیدہ وری! خاک اڑ رہی ہے مری
میں جانتی تھی غبار مکاں کے بارے میں
نہ جانے کیسی گزرتی ہے جانے والوں پر
کوئی بتاتا نہیں رفتگاں کے بارے میں