مِرے چارہ گر تجھے کیا خبر جو عذابِ ہجر و وصال ہے
یہ دریدہ تن یہ دریدہ من، تِری چاہتوں کا کمال ہے
مجھے سانس سانس گراں لگے، یہ وجود وہم و گماں لگے
میں تلاش خود کو کہاں کروں مِری ذات خواب و خیال ہے
وہ جو چشمِ تر میں ٹھہر گیا، وہ ستارہ جانے کدھر گیا
اسے فصل فصل بھی سینچ کر مِلا سایہ اور نہ مِلا ثمر
یہ عجیب عشق کا پیڑ ہے، یہ عجیب شاخِ نہال ہے
مِرا حرف حرف اسی کا ہے مِرے خواب خواب میں وہ بسا
جو قریب رہ کے بھی دور ہے، اسے پانا کتنا محال ہے
تسنیم عابدی
No comments:
Post a Comment