کسی کو چھوڑ دیتا ہوں کسی کے ساتھ چلتا ہوں
میں چلتا ہوں تو پھر وابستگی کے ساتھ چلتا ہوں
ستارے بانٹنے والے کسی پل لوٹ آئیں گے
چلو کچھ دیر یوں ہی تیرگی کے ساتھ چلتا ہوں
مجھے یہ کیا پڑی ہے کون میرا ہمسفر ہو گا
ہوا کے ساتھ گاتا ہوں ندی کے ساتھ چلتا ہوں
کسی کو چھوڑ دیتا ہوں کسی کے ساتھ چلتا ہوں
میں چلتا ہوں تو پھر وابستگی کے ساتھ چلتا ہوں
ستارے بانٹنے والے کسی پل لوٹ آئیں گے
چلو کچھ دیر یوں ہی تیرگی کے ساتھ چلتا ہوں
مجھے یہ کیا پڑی ہے کون میرا ہمسفر ہو گا
ہوا کے ساتھ گاتا ہوں ندی کے ساتھ چلتا ہوں
بات کرنے کا نہیں، سامنے آنے کا نہیں
وہ مجھے میری اذیت سے بچانے کا نہیں
دور اک شہر ہے جو پاس بلاتا ہے مجھے
ورنہ یہ شہر کہیں چھوڑ کے جانے کا نہیں
کیا یوں ہی رات کے پہلو میں کٹے گی یہ حیات
کیا کوئی شہر کے لوگوں کو جگانے کا نہیں