Showing posts with label احمد رضوان. Show all posts
Showing posts with label احمد رضوان. Show all posts

Tuesday, 15 March 2022

کسی کو چھوڑ دیتا ہوں کسی کے ساتھ چلتا ہوں

کسی کو چھوڑ دیتا ہوں کسی کے ساتھ چلتا ہوں

میں چلتا ہوں تو پھر وابستگی کے ساتھ چلتا ہوں

ستارے بانٹنے والے کسی پل لوٹ آئیں گے

چلو کچھ دیر یوں ہی تیرگی کے ساتھ چلتا ہوں

مجھے یہ کیا پڑی ہے کون میرا ہمسفر ہو گا

ہوا کے ساتھ گاتا ہوں ندی کے ساتھ چلتا ہوں

Thursday, 22 October 2020

بات کرنے کا نہیں سامنے آنے کا نہیں

 بات کرنے کا نہیں، سامنے آنے کا نہیں

وہ مجھے میری اذیت سے بچانے کا نہیں

دور اک شہر ہے جو پاس بلاتا ہے مجھے

ورنہ یہ شہر کہیں چھوڑ کے جانے کا نہیں

کیا یوں ہی رات کے پہلو میں کٹے گی یہ حیات

کیا کوئی شہر کے لوگوں کو جگانے کا نہیں

Friday, 31 July 2020

راہ میں کوئی چراغوں کی گلی آتی ہے

راہ میں کوئی "چراغوں" کی گلی آتی ہے
شام آتی ہے تو "حیرت" سے بھری آتی ہے
دیکھ، یوں مجھ سے مِری پہلی  محبت کا نہ پوچھ
اس طرح دوست "تعلق" میں کمی آتی ہے
اور اب کس کس کو دکھاؤں میں بھلا روح کے زخم
جُز تِرے اور کسے "چارہ گری" آتی ہے؟

رات بھر خواب کی گلیوں میں کوئی بولتا ہے

میں تو خاموش ہی رہتا ہوں وہی بولتا ہے
رات بھر خواب کی گلیوں میں کوئی بولتا ہے
دیکھتا ہوں تو مرے ساتھ کوئی اور نہیں
بولتا ہوں تو مِرے ساتھ کوئی بولتا ہے
اک پرندہ میں جسے دیکھ نہیں سکتا ہوں
روز آتا ہے، کوئی بات نئی بولتا ہے

Thursday, 30 July 2020

وہ چھوڑ گیا اک شام کہیں کیا بات کروں

آتا ہی نہیں ہونے کا یقیں، کیا بات کروں؟
ہے دور بہت وہ خواب نشیں کیا بات کروں؟
کیا بات کروں؟ جو عکس تھا میری آنکھوں میں
وہ چھوڑ گیا اک شام کہیں، کیا بات کروں؟
کیا بات کروں؟ جو گھڑیاں میری ہمدم تھیں
وہ گھڑیاں ہی آزار بنیں، کیا بات کروں؟

تیرے جانے کو بھلایا تو نہیں جا سکتا

طاقِ رفتہ پہ، سجایا تو نہیں جا سکتا
تیرے جانے کو بھلایا تو نہیں جا سکتا
یاد کر لیتا ہوں ہر روز تیرے ملنے کو
دوسرے شہر سے آیا تو نہیں جا سکتا
جو ملے، تیری شباہت سے الگ ہوتا ہے
اب کوئی تجھ سا، بنایا تو نہیں جا سکتا

Tuesday, 28 July 2020

صورت یار کی تلاوت کی

صورتِ یار کی تلاوت کی 
زندگی بھر یہی عبادت کی
گھر میں جو پیڑ تھا مِرے اس پر
شاخ مرجھا گئی محبت کی
گاؤں میں لگ نہیں رہا تھا دل
شام بھی آ گئی تھی ہجرت کی

مجھے دیوار کا سایہ سمجھ لو

نہیں کچھ تو چلو اتنا سمجھ لو
مجھے دیوار کا سایا سمجھ لو
جہاں تم پهول کی صورت کهلے ہو
مجهے اس شاخ کا پتہ سمجھ لو
اکیلے باغ میں کب تک رہو گے
کسی کو پاس ہی بیٹها سمجھ لو

ظرف بھر تیری تمنا میں بھٹک دیکھا ہے

خاک دیکھی ہے شفق زار فلک دیکھا ہے
ظرف بھر تیری تمنا میں بھٹک دیکھا ہے
ایسا لگتا ہے کوئی دیکھ رہا ہے مجھ کو
لاکھ اس وہم کو سوچوں سے جھٹک دیکھا ہے
قدرت ضبط بھی لوگوں کو دکھائی ہم نے
صورت اشک بھی آنکھوں سے چھلک دیکھا ہے

Friday, 30 September 2016

جب ہم نے اپنا اپنا قبیلہ الگ کیا

جب ہم نے اپنا اپنا قبیلہ الگ کیا
رستے الگ بنا لیے، دریا الگ کیا
وہ ریت دوسروں کے مقدر کی ریت تھی
سو ہم نے اپنے نام کا صحرا الگ کیا
اس پار بُود و باش رہی ہم سے مختلف
ہم نے بھی زندگی کا قرینہ الگ کیا

آتا ہی نہیں ہونے کا یقیں کیا بات کروں

آتا ہی نہیں ہونے کا یقیں، کیا بات کروں 
ہے دور بہت وہ خواب نشیں، کیا بات کروں 
کیا بات کروں جو عکس تھا میری آنکھوں میں 
وہ چھوڑ گیا اک شام کہیں،۔ کیا بات کروں 
کیا بات کروں، جو گھڑیاں میری ہمدم تھیں 
وہ گھڑیاں ہی آزار بنیں،۔ کیا بات کروں 

میں ایک شام جو روشن دیا اٹھا لایا

میں ایک شام جو روشن دِیا اٹھا لایا
تمام شہر کہیں سے ہوا اٹھا لایا
یہ لوگ دَنگ تھے پہلی کہانیاں سن کر
میں ایک اور نیا واقعہ اٹھا لایا
طلِسمِ شام پھیلتا تھا گلیوں میں
کوئی چراغ، کوئی آئینہ اٹھا لایا