Tuesday, 15 March 2022

کسی کو چھوڑ دیتا ہوں کسی کے ساتھ چلتا ہوں

کسی کو چھوڑ دیتا ہوں کسی کے ساتھ چلتا ہوں

میں چلتا ہوں تو پھر وابستگی کے ساتھ چلتا ہوں

ستارے بانٹنے والے کسی پل لوٹ آئیں گے

چلو کچھ دیر یوں ہی تیرگی کے ساتھ چلتا ہوں

مجھے یہ کیا پڑی ہے کون میرا ہمسفر ہو گا

ہوا کے ساتھ گاتا ہوں ندی کے ساتھ چلتا ہوں

وہ کہتے ہیں زمانہ تیز ہے لمبی مسافت ہے

محبت کا ستارہ ہوں سبھی کے ساتھ چلتا ہوں

بدلتے موسموں کا خواب ہوں کتنے زمانوں سے

یہاں میں کاروانِ زندگی کے ساتھ چلتا ہوں

مناظر روک لیتے ہیں مِرے اٹھتے قدم احمد

ذرا سا بھی اگر بیگانگی کے ساتھ چلتا ہوں


احمد رضوان

No comments:

Post a Comment