کسی کو چھوڑ دیتا ہوں کسی کے ساتھ چلتا ہوں
میں چلتا ہوں تو پھر وابستگی کے ساتھ چلتا ہوں
ستارے بانٹنے والے کسی پل لوٹ آئیں گے
چلو کچھ دیر یوں ہی تیرگی کے ساتھ چلتا ہوں
مجھے یہ کیا پڑی ہے کون میرا ہمسفر ہو گا
ہوا کے ساتھ گاتا ہوں ندی کے ساتھ چلتا ہوں
وہ کہتے ہیں زمانہ تیز ہے لمبی مسافت ہے
محبت کا ستارہ ہوں سبھی کے ساتھ چلتا ہوں
بدلتے موسموں کا خواب ہوں کتنے زمانوں سے
یہاں میں کاروانِ زندگی کے ساتھ چلتا ہوں
مناظر روک لیتے ہیں مِرے اٹھتے قدم احمد
ذرا سا بھی اگر بیگانگی کے ساتھ چلتا ہوں
احمد رضوان
No comments:
Post a Comment