اے دوست جب سے وقفِ خرابات ہو گئی
عمرِ عزیز کتنی خوش اوقات ہو گئی
ساقی نے اپنی ذات میں مجھ کو سمو لیا
میری حیات مستِ مئے ذات ہو گئی
دل پر پڑا پرتوِ حسن و جمالِ دوست
جاری زباں پہ حمد و مناجات ہو گئی
صبحِ ازل چلا تھا میں اُن کی تلاش میں
شامِ ابد کے بعد ملاقات ہو گئی
پَو پھٹ رہی تھی محوِ نظارہ تھے ہم مگر
سورج کے انتظار ہی میں رات ہو گئی
فکرِ سلیم، ذوقِ نظر، ہمتِ بلند
ہر چیز نذرِ گردشِ حالات ہو گئی
اربابِ ہوش اپنا سا منہ لے کے رہ گئے
جوشِ جنوں میں مجھ سے کوئی بات ہو گئی
شعر و سخن میں اب وہ کہاں فکر و آگہی
اب شاعری ہجومِ خیالات ہو گئی
جب بھی نفیس آئی ہے اُس جانِ جاں کی یاد
روئی کچھ ایسے آنکھ کہ برسات ہو گئی
نفیس الحسینی
No comments:
Post a Comment