Tuesday, 15 March 2022

ہر ذرہ ہے جمال کی دنیا لیے ہوئے

 ہر ذرہ ہے جمال کی دنیا لیے ہوئے 

انساں اگر ہو دیدۂ بینا لیے ہوئے 

کیف نگاہ سحر بیاں مستئ خرام 

ہم آئے ان کی بزم سے کیا کیا لیے ہوئے 

نقش و نگار دہر کی رعنائیاں نہ پوچھ 

در پردہ ہیں کسی کا سراپا لیے ہوئے 

بے لاگ میں گزر گیا ہر خوب و زشت سے 

اپنی نظر میں ذوق تماشا لیے ہوئے 

راہ حیات میں نہ ملا کوئی ہمسفر 

تنہا چلا ہوں نام کسی کا لیے ہوئے 

برباد التفات کی تقدیر دیکھنا 

وہ آئے بھی تو رنجش بے جا لیے ہوئے 

ہستی کے حادثوں کے مقابل ڈٹا رہا 

میں ان کی اک نظر کا سہارا لیے ہوئے 

ریحانئؔ حزیں ہے خزاں میں غزل سرا 

رنگینئ بہار کا سودا لیے ہوئے 


ہینسن ریحانی

No comments:

Post a Comment