رقص کیا ہے دھمال ہے صاحب
تشنگی کا کمال ہے صاحب
اب تو بینائی بھی چٹختی ہے
اس پہ اشکوں کا کال ہے صاحب
ہُوک توڑے ہے حائطِ سینہ
سانس لینا محال ہے صاحب
عشق چھُو لے جسے تو اس کو پھر
دنیاداری وبال ہے صاحب
تم بھکاری جسے سمجھتے ہو
صاحبِ وجد و حال ہے صاحب
جو بھی کاتب نے لکھ دیا حق ہے
اس پہ تدبیر چال ہے صاحب
کون تقدیر سے مبرا ہے
کس کی اتنی مجال ہے صاحب
ماوٰی سلطان
No comments:
Post a Comment