تمام شہر نہ مسدود کر دیا جائے
سو اپنے آپ کو محدود کر دیا جائے
زمیں سے سُر کی خلافت تمام ہونے تک
کسی کو وارثِ داؤد کر دیا جائے
اے سجدہ گاہِ ملائک، اے ذلتِ آدم
یہ حکم ہے تجھے نابود کر دیا جائے
جو دیکھتا ہے، نہ سنتا ہے اور نہ بولتا ہے
اسی کو پھر سے نہ معبود کر دیا جائے
جو پل رہا ہے تقدس کے نام پر عرفی
ہر اس وجود کو مردود کر دیا جائے
عرفان عرفی
No comments:
Post a Comment