Tuesday, 15 March 2022

تمام شہر نہ مسدود کر دیا جائے

 تمام شہر نہ مسدود کر دیا جائے 

سو اپنے آپ کو محدود کر دیا جائے 

زمیں سے سُر کی خلافت تمام ہونے تک 

کسی کو وارثِ داؤد کر دیا جائے

اے سجدہ گاہِ ملائک، اے ذلتِ آدم 

یہ حکم ہے تجھے نابود کر دیا جائے

جو دیکھتا ہے، نہ سنتا ہے اور نہ بولتا ہے 

اسی کو پھر سے نہ معبود کر دیا جائے

جو پل رہا ہے تقدس کے نام پر عرفی 

ہر اس وجود کو مردود کر دیا جائے


عرفان عرفی

No comments:

Post a Comment