Showing posts with label ناز بٹ. Show all posts
Showing posts with label ناز بٹ. Show all posts

Monday, 11 December 2023

اے صبا اب اڑا مجھ کو سوئے حرم

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


اے صبا! اب اُڑا مجھ کو سُوئے حرم

پھر سے دیکھوں میں شہرِ رسولِ اُممؐ

شہرِ عظمت کو کِھنچنے لگا میرا دل

خُوشبوئے شوق! ہو جا مِری ہم قدم

میری ہر سانس ہو وقفِ ذکرِ نبیﷺ

ہو اسی سے مِرے روز و شب کا بھرم

Monday, 11 April 2022

پورے چاند کی رات کا جادو

 پورے چاند کی رات کا جادو

چاند کی رات کا جادو

شام ڈھلے اک آہٹ دل میں ہوتی ہے

دھیرے دھیرے شام کا سایہ اور بھی گہرا ہوتا ہے

شام سے رات کا ملنا

وصل کی خواہش اور بڑھا دیتا ہے

Wednesday, 2 February 2022

کیا ضروری ہے دل کا ہونا بھی

 کیا ضروری ہے دل کا ہونا بھی


ایسے دل ڈولتا ہے پنجرے میں

جیسے نوکِ سناں پہ دھڑکن ہو

آخری شب ہو جیسے زنداں میں

سانس سینے میں یوں اٹکتی ہے

جیسے شہ رگ میں ریت بھر جائے

Sunday, 5 September 2021

بے خبر ہوتے ہوئے بھی با خبر لگتے ہو تم

بے خبر ہوتے ہوئے بھی با خبر لگتے ہو تم

دور رہ کر بھی مجھے نزدیک تر لگتے ہو تم

کیوں نہ آؤں سج سنور کر میں تمہارے سامنے

خوش ادا لگتے ہو مجھ کو خوش نظر لگتے ہو تم

تم نے لمس معتبر سے بخش دی وہ روشنی

مجھ کو میری آرزوؤں کی سحر لگتے ہو تم

Thursday, 12 August 2021

سنو ہمدم میں رستہ بھول بیٹھی ہوں

 سنو ہمدم


سُنو ہمدم میں رستہ بُھول بیٹھی ہوں

اُداسی کا گھنا جنگل

مِرے احساس پہ تاریکیوں کے ان گِنت سائے بچھاتا ہے

مجھے آسیب کی صورت ڈراتا ہے

ہوا کی چیخ میری نیند کو ایسے نگلتی ہے

کہ جیسے آگ سُوکھی لکڑیوں کو راکھ کرتی ہے

Wednesday, 28 July 2021

کئی صدیوں سے صحرا کی سلگتی ریت پر تنہا کھڑی

 بنجر زمیں کا خواب


کئی صدیوں سے صحرا کی سلگتی ریت پر 

تنہا کھڑی میں سوچتی ہوں

نہیں کوئی نہیں ہے

نہیں کوئی نہیں ہے جو مِرے اندر بلکتی خامشی کو 

تھپکیاں دے کر سُلا ڈالے

Tuesday, 1 June 2021

پہلے دکھ درد کئی دل کے سنبھالے میں نے

 پہلے دکھ درد کئی دل کے سنبھالے میں نے

پھر کیا خود کو تِرے غم کے حوالے میں نے

کیوں کُھلے تجھ پہ سفر میں تھی اذیت کیسی

کب دکھائے ہیں تجھے روح کے چھالے میں نے

تیری تصویر مِرے پاس تھی یعنی تُو تھا

دن تِرے ہجر کے اس خواب میں ٹالے میں نے

Sunday, 30 May 2021

دل و نگاہ کی حیرت میں رہ گئے ہیں ہم

 دل و نگاہ کی حیرت میں رہ گئے ہیں ہم

خمارِ خواب کی لذت میں رہ گئے ہیں ہم

چرا کے لے گئی دنیائے پُر فریب اس کو

اور اپنی سادہ طبیعت میں رہ گئے ہیں ہم

ہمیں تو کھینچ رہا تھا سفر تِری جانب

بس اس جہاں کی روایت میں رہ گئے ہیں ہم

Saturday, 29 May 2021

ترا نصیب بنوں تیری چاہتوں میں رہوں

 تِرا نصیب بنوں تیری چاہتوں میں رہوں

تمام عمر محبت کی وحشتوں میں رہوں

خمارِ حسرتِ دیدار میں رہوں ہر دم

سوادِ عشق یونہی تیری شدتوں میں رہوں

یہ زندگی کی حرارت تِرے سبب سے ہے

میں لمحہ لمحہ جنوں کی تمازتوں میں رہوں

Friday, 28 May 2021

وصل کے فسانے سے ہجر کے زمانے تک

 سراب


وصل کے فسانے سے

ہجر کے زمانے تک

فاصلہ ہے صدیوں کا

فاصلہ کچھ ایسا ہے

عمر کی مسافت بھی

جس کو طے نہ کر پائے

Thursday, 27 May 2021

چمن سا دشت تا حد نظر کتنا حسیں ہے

 چمن سا دشت تا حدِ نظر کتنا حسیں ہے

تُو میرا ہم قدم ہے تو سفر کتنا حسیں ہے

مِری جانب لپکتی منزلوں سے پوچھ لینا

کسی کے ساتھ چلنے کا ہُنر کتنا حسیں ہے

وہ میرے سامنے بیٹھا ہوا ہے میرا ہو کر

دعائے نیم شب کا یہ اثر کتنا حسیں ہے