عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
اے صبا! اب اُڑا مجھ کو سُوئے حرم
پھر سے دیکھوں میں شہرِ رسولِ اُممؐ
شہرِ عظمت کو کِھنچنے لگا میرا دل
خُوشبوئے شوق! ہو جا مِری ہم قدم
میری ہر سانس ہو وقفِ ذکرِ نبیﷺ
ہو اسی سے مِرے روز و شب کا بھرم
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
اے صبا! اب اُڑا مجھ کو سُوئے حرم
پھر سے دیکھوں میں شہرِ رسولِ اُممؐ
شہرِ عظمت کو کِھنچنے لگا میرا دل
خُوشبوئے شوق! ہو جا مِری ہم قدم
میری ہر سانس ہو وقفِ ذکرِ نبیﷺ
ہو اسی سے مِرے روز و شب کا بھرم
پورے چاند کی رات کا جادو
چاند کی رات کا جادو
شام ڈھلے اک آہٹ دل میں ہوتی ہے
دھیرے دھیرے شام کا سایہ اور بھی گہرا ہوتا ہے
شام سے رات کا ملنا
وصل کی خواہش اور بڑھا دیتا ہے
کیا ضروری ہے دل کا ہونا بھی
ایسے دل ڈولتا ہے پنجرے میں
جیسے نوکِ سناں پہ دھڑکن ہو
آخری شب ہو جیسے زنداں میں
سانس سینے میں یوں اٹکتی ہے
جیسے شہ رگ میں ریت بھر جائے
بے خبر ہوتے ہوئے بھی با خبر لگتے ہو تم
دور رہ کر بھی مجھے نزدیک تر لگتے ہو تم
کیوں نہ آؤں سج سنور کر میں تمہارے سامنے
خوش ادا لگتے ہو مجھ کو خوش نظر لگتے ہو تم
تم نے لمس معتبر سے بخش دی وہ روشنی
مجھ کو میری آرزوؤں کی سحر لگتے ہو تم
سنو ہمدم
سُنو ہمدم میں رستہ بُھول بیٹھی ہوں
اُداسی کا گھنا جنگل
مِرے احساس پہ تاریکیوں کے ان گِنت سائے بچھاتا ہے
مجھے آسیب کی صورت ڈراتا ہے
ہوا کی چیخ میری نیند کو ایسے نگلتی ہے
کہ جیسے آگ سُوکھی لکڑیوں کو راکھ کرتی ہے
بنجر زمیں کا خواب
کئی صدیوں سے صحرا کی سلگتی ریت پر
تنہا کھڑی میں سوچتی ہوں
نہیں کوئی نہیں ہے
نہیں کوئی نہیں ہے جو مِرے اندر بلکتی خامشی کو
تھپکیاں دے کر سُلا ڈالے
پہلے دکھ درد کئی دل کے سنبھالے میں نے
پھر کیا خود کو تِرے غم کے حوالے میں نے
کیوں کُھلے تجھ پہ سفر میں تھی اذیت کیسی
کب دکھائے ہیں تجھے روح کے چھالے میں نے
تیری تصویر مِرے پاس تھی یعنی تُو تھا
دن تِرے ہجر کے اس خواب میں ٹالے میں نے
دل و نگاہ کی حیرت میں رہ گئے ہیں ہم
خمارِ خواب کی لذت میں رہ گئے ہیں ہم
چرا کے لے گئی دنیائے پُر فریب اس کو
اور اپنی سادہ طبیعت میں رہ گئے ہیں ہم
ہمیں تو کھینچ رہا تھا سفر تِری جانب
بس اس جہاں کی روایت میں رہ گئے ہیں ہم
تِرا نصیب بنوں تیری چاہتوں میں رہوں
تمام عمر محبت کی وحشتوں میں رہوں
خمارِ حسرتِ دیدار میں رہوں ہر دم
سوادِ عشق یونہی تیری شدتوں میں رہوں
یہ زندگی کی حرارت تِرے سبب سے ہے
میں لمحہ لمحہ جنوں کی تمازتوں میں رہوں
سراب
وصل کے فسانے سے
ہجر کے زمانے تک
فاصلہ ہے صدیوں کا
فاصلہ کچھ ایسا ہے
عمر کی مسافت بھی
جس کو طے نہ کر پائے
چمن سا دشت تا حدِ نظر کتنا حسیں ہے
تُو میرا ہم قدم ہے تو سفر کتنا حسیں ہے
مِری جانب لپکتی منزلوں سے پوچھ لینا
کسی کے ساتھ چلنے کا ہُنر کتنا حسیں ہے
وہ میرے سامنے بیٹھا ہوا ہے میرا ہو کر
دعائے نیم شب کا یہ اثر کتنا حسیں ہے