Thursday, 12 August 2021

سنو ہمدم میں رستہ بھول بیٹھی ہوں

 سنو ہمدم


سُنو ہمدم میں رستہ بُھول بیٹھی ہوں

اُداسی کا گھنا جنگل

مِرے احساس پہ تاریکیوں کے ان گِنت سائے بچھاتا ہے

مجھے آسیب کی صورت ڈراتا ہے

ہوا کی چیخ میری نیند کو ایسے نگلتی ہے

کہ جیسے آگ سُوکھی لکڑیوں کو راکھ کرتی ہے

جہاں میں پاؤں رکھتی ہوں

وہاں پر وسوسوں کے ناگ پھن پھیلائے بیٹھے ہیں

میں جتنے زور سے آواز دیتی ہوں

مِری خاموشیاں اپنے تسلسل میں مجھے آنے نہیں دیتیں

مِری آواز گُھٹ جاتی ہے اندر ہی کہیں پر ڈُوب جاتی ہے

سنو ہمدم

میں تنہا ہوں

کبھی آؤ پکڑ کر ہاتھ لے جاؤ

مجھے تاریکیوں کی رات سے روشن دنوں تک ساتھ لے جاؤ


ناز بٹ

No comments:

Post a Comment