Showing posts with label صائمہ آفتاب. Show all posts
Showing posts with label صائمہ آفتاب. Show all posts

Saturday, 2 May 2026

غم ہجراں کی ماری ڈھونڈتی ہے

 غمِ ہجراں کی ماری ڈھونڈتی ہے

ہوا خُوشبو تمہاری ڈھونڈتی ہے

ڈگر پہ چلنے والی زندگی بھی

کبھی بے اختیاری ڈھونڈتی ہے

یکایک ہو گیا ہے خوف رُخصت

کہ اب ہرنی شکاری ڈھونڈتی ہے

Tuesday, 30 July 2024

فصیل کعبہ ہوئی شق کہاں علی آئے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


فصیلِ کعبہ ہوئی شق، کہاں علیؑ آئے 

خدا بھی خوش ہے کہ اس کے یہاں علیؑ آئے

بتا گئے تھے سبھی کو وہ رات ہجرت کی

جہاں سے جائیں محمدﷺ وہاں علیؑ آئے 

بدر کا معرکہ درپیش ہو کہ خیبر ہو

پکارا جائے مدد کو جہاں، علیؑ آئے

Friday, 1 December 2023

مجھ بے نوا کے پاس کیا وجدان نعت ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


مجھ بے نوا کے پاس کیا وجدانِ نعت ہے

نادِم سا ایک اشک ہی سامانِ نعت ہے

اچھا عمل بھی مدحتِ خیر الانامﷺ ہے

“ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے”

آدمؑ نے سیکھا اسمِ محمدﷺ، نبی ہوئے

یعنی یہ کائنات دبستانِ نعت ہے

Tuesday, 11 January 2022

دریا پیار کا سوکھ گیا تو شہر یہ چولستان ہوا

 دریا پیار کا سُوکھ گیا تو شہر یہ چولستان ہوا

آندھی ایسی ہجر کی اُٹھی باغ بھی ریگستان ہوا

جن پر آتے جاتے ہم کو چاندنی راتوں نے دیکھا

سُونا سُونا وہ پنگھٹ ہے،۔ رستہ وہ سُنسان ہوا

مانا کہ کچھ طاق نہیں ہو پائے دنیاداری میں

کتنے دُکھ کی بات ہے لیکن عشق میں بھی نقصان ہوا

Friday, 31 December 2021

نعرۂ بے خودی بھی کچھ نئیں ہے

نعرۂ بے خودی بھی کچھ نئیں ہے

دعوئ دلبری بھی کچھ نئیں ہے

نوکری، کیریئر کے چکر میں

جانِ من! عاشقی بھی کچھ نئیں ہے

آج اتنا اداس دن نکلا

آج تو شاعری بھی کچھ نئیں ہے

Friday, 3 September 2021

آ جاتا ہے خود پاس بلانا نہیں پڑتا

 آ جاتا ہے خود پاس، بُلانا نہیں پڑتا

ملنے کے لیے ہاتھ بڑھانا نہیں پڑتا

کچھ ایسی سہولت سے مکیں دل میں ہوا وہ

مجھ کو بھی مِری ذات سے جانا نہیں پڑتا

یہ خاص رعایت ہے مِرے دیس میں اب تو

غم مفت میں ملتا ہے، کمانا نہیں پڑتا

Monday, 24 August 2020

یہاں میں تخت نشیں تھی اتار دی گئی ہوں

کسی کی ریشہ دوانی پہ وار دی گئی ہوں
یہاں میں تخت نشیں تھی، اتار دی گئی ہوں
بس اک خیال کو تجسیم کر لیا میں نے
اسی سبب سے تو کافر قرار دی گئی ہوں
کلیجہ چیر کے نکلا تھا دن جدائی کا
شبِ سیہ سے بھی تنہا گزار دی گئی ہوں

سرور و رقص و مستی میں نہیں ہوں

سرور و رقص و مستی میں نہیں ہوں
مکمل گھر گھرہستی میں نہیں ہوں
وہی صدیوں پرانی عام عورت
انوکھا رازِ ہستی، میں نہیں ہوں
ہے دل کی آرزو صحرا نوردی
نگر، قصبہ یا بستی، میں نہیں ہوں

Sunday, 23 August 2020

آج ہے اور کل نہیں ہے تو

آج ہے اور کل نہیں ہے تُو
یار! مشکل کا حل نہیں ہے تو
اچھے اچھوں کو وقت نے بدلا
نعمتِ بے بدل نہیں ہے تو
میری خوش قسمتی تو ہو شاید
میری محنت کا پھل نہیں ہے تو

اے رنج آگہی کوئی چارہ تو ہو گا ناں

اے رنجِ آگہی، کوئی چارہ تو ہو گا نا؟
چل خوش نہ رہ سکیں گے، گزارا تو ہو گا نا
یہ آرزو بھی وقت کے دھارے میں بہہ گئی
اب ناں سہی، کبھی وہ ہمارا تو ہو گا نا
جاتی ہے جو متاعِ دل و جاں، تو کیا ملال
یہ عشق کی دکاں ہے، خسارہ تو ہو گا نا

اے ساعت وصال مرے دن گزر گئے

اے ساعتِ وصال، مِرے دن گزر گئے
اے یارِِ خوش جمال، مرے دن گزر گئے
ذرے کی حیثیت تو نہیں کائنات میں
پھر بھی ہوا ملال، مرے دن گزر گئے
چاہا تھا خوابِ زندگی مل کر گزار لیں
آیا مگر خیال، مِرے دن گزر گئے

Saturday, 22 August 2020

غم ہجراں کی ماری ڈھونڈتی ہے

غمِ ہجراں کی ماری ڈھونڈتی ہے
ہوا، خوشبو تمہاری ڈھونڈتی ہے
ڈگر پہ چلنے والی زندگی بھی
کبھی بے اختیاری ڈھونڈتی ہے
یکایک، ہو گیا ہے خوف رخصت
کہ اب ہرنی شکاری ڈھونڈتی ہے

نعرہ بے خودی بھی کچھ نئیں ہے

نعرۂ بے خودی بھی کچھ نئیں ہے
دعوئ دلبری بھی کچھ نئیں ہے
نوکری، کیریئر کے چکر میں
جانِ من! عاشقی بھی کچھ نئیں ہے
آج اتنا اداس 🌞 دن نکلا
آج تو شاعری بھی کچھ نئیں ہے

پھر وہی قصۂ الفت نہ سناؤ جاؤ

پھر وہی قصۂ الفت نہ سناؤ، جاؤ
سبز ہو جائے گی پھر کونپلِ گھاؤ، جاؤ
آگہی کرب میں تبدیل بھی ہو سکتی ہے
بے خبر آنکھ کو دنیا میں گھماؤ، جاؤ
ہاتھ زخمی ہیں مِرے کرچیاں چن چن کے عبث
اور اب خواب نہ آنکھوں کو دکھاؤ، جاؤ

Sunday, 26 July 2020

لڑکھڑا کے سنبھل رہے ہیں ہم

لڑکھڑا کے سنبھل رہے ہیں ہم
یعنی رستہ بدل رہے ہیں ہم
لاد کر دن کا بوجھ کاندھوں پر
چاندنی میں ٹہل رہے ہیں ہم
مثلِ گرد و غبارِ راہ سہی
دیکھیۓ، ساتھ چل رہے ہیں ہم

غم کا سامان تھا ہمارے بیچ

غم کا سامان تھا ہمارے بیچ
ڈھیر نقصان تھا ہمارے بیچ
زندگی منہ بسورے پھرتی تھی
خواب ہلکان تھا ہمارے بیچ
ہم نے اس پر کبھی نہ دھیان دیا
ایک امکان تھا ہمارے بیچ