غمِ ہجراں کی ماری ڈھونڈتی ہے
ہوا خُوشبو تمہاری ڈھونڈتی ہے
ڈگر پہ چلنے والی زندگی بھی
کبھی بے اختیاری ڈھونڈتی ہے
یکایک ہو گیا ہے خوف رُخصت
کہ اب ہرنی شکاری ڈھونڈتی ہے
غمِ ہجراں کی ماری ڈھونڈتی ہے
ہوا خُوشبو تمہاری ڈھونڈتی ہے
ڈگر پہ چلنے والی زندگی بھی
کبھی بے اختیاری ڈھونڈتی ہے
یکایک ہو گیا ہے خوف رُخصت
کہ اب ہرنی شکاری ڈھونڈتی ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
فصیلِ کعبہ ہوئی شق، کہاں علیؑ آئے
خدا بھی خوش ہے کہ اس کے یہاں علیؑ آئے
بتا گئے تھے سبھی کو وہ رات ہجرت کی
جہاں سے جائیں محمدﷺ وہاں علیؑ آئے
بدر کا معرکہ درپیش ہو کہ خیبر ہو
پکارا جائے مدد کو جہاں، علیؑ آئے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
مجھ بے نوا کے پاس کیا وجدانِ نعت ہے
نادِم سا ایک اشک ہی سامانِ نعت ہے
اچھا عمل بھی مدحتِ خیر الانامﷺ ہے
“ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے”
آدمؑ نے سیکھا اسمِ محمدﷺ، نبی ہوئے
یعنی یہ کائنات دبستانِ نعت ہے
دریا پیار کا سُوکھ گیا تو شہر یہ چولستان ہوا
آندھی ایسی ہجر کی اُٹھی باغ بھی ریگستان ہوا
جن پر آتے جاتے ہم کو چاندنی راتوں نے دیکھا
سُونا سُونا وہ پنگھٹ ہے،۔ رستہ وہ سُنسان ہوا
مانا کہ کچھ طاق نہیں ہو پائے دنیاداری میں
کتنے دُکھ کی بات ہے لیکن عشق میں بھی نقصان ہوا
نعرۂ بے خودی بھی کچھ نئیں ہے
دعوئ دلبری بھی کچھ نئیں ہے
نوکری، کیریئر کے چکر میں
جانِ من! عاشقی بھی کچھ نئیں ہے
آج اتنا اداس دن نکلا
آج تو شاعری بھی کچھ نئیں ہے
آ جاتا ہے خود پاس، بُلانا نہیں پڑتا
ملنے کے لیے ہاتھ بڑھانا نہیں پڑتا
کچھ ایسی سہولت سے مکیں دل میں ہوا وہ
مجھ کو بھی مِری ذات سے جانا نہیں پڑتا
یہ خاص رعایت ہے مِرے دیس میں اب تو
غم مفت میں ملتا ہے، کمانا نہیں پڑتا