غمِ ہجراں کی ماری ڈھونڈتی ہے
ہوا، خوشبو تمہاری ڈھونڈتی ہے
ڈگر پہ چلنے والی زندگی بھی
کبھی بے اختیاری ڈھونڈتی ہے
یکایک، ہو گیا ہے خوف رخصت
اجل اک عالمِ وحشت میں رقصاں
سبھی کو باری باری ڈھونڈتی ہے
پرندے کھوج میں نکلے ہوئے ہیں
مجھے صبحِ بہار ڈھونڈتی ہے
صائمہ آفتاب
No comments:
Post a Comment