Saturday, 22 August 2020

دل کے ویرانے کو یوں آباد کر لیتے ہیں ہم

دل کے ویرانے کو یوں آباد کر لیتے ہیں ہم
کر بھی کیا سکتے ہیں؟ تجھ کو یاد کر لیتے ہیں ہم
جب بزرگوں کی دعائیں ہو گئیں بے کار سب
قرضِ خواب آور سے دل کو شاد کر لیتے ہیں ہم
تلخئ کام و دہن کی آبیاری کے لیے
دعوت شیراز ابر و باد کر لیتے ہیں ہم
دیکھ کر دھبے لہو کے دستِ آدم زاد پر
طاری اپنے ذہن پر الحاد کر لیتے ہیں ہم
کون سنتا ہے بھکاری کی صدائیں، اس لیے
کچھ ظریفانہ لطیفے یاد کر لیتے ہیں ہم
جب پرانا لہجہ کھو دیتا ہے اپنی تازگی
اک نئی طرزِ نوا ایجاد کر لیتے ہیں ہم
دیکھ کر اہلِ قلم کو کشتۂ آسودگی
خود کو وامق فرض اک نقاد کر لیتے ہیں ہم

وامق جونپوری

No comments:

Post a Comment