کس جنوں رُت کی نمُو آنکھ میں ہے
اب یہ دل ہے کہ لہو آنکھ میں ہے
ڈھلتے سائے سے نگہ باندھ کے دیکھ
مستقل میں ہوں، نہ تو آنکھ میں ہے
زندگی! دو ہی تو چہرے ہیں تِرے
یار دل میں، تو عدو آنکھ میں ہے
کس جنوں رُت کی نمُو آنکھ میں ہے
اب یہ دل ہے کہ لہو آنکھ میں ہے
ڈھلتے سائے سے نگہ باندھ کے دیکھ
مستقل میں ہوں، نہ تو آنکھ میں ہے
زندگی! دو ہی تو چہرے ہیں تِرے
یار دل میں، تو عدو آنکھ میں ہے
اس کی چاہت میں عجب دل کو سکوں ہے یوں ہے
وہ جو کہتا تھا محبت کو کہ؛ یوں ہے، یوں ہے
یہ جو ہم ایک فلک سر پہ لیے پھرتے ہیں
اس کی بنیاد نہ دامن میں ستوں ہے، یوں ہے
ورنہ، میں کب تھا کسی جادو گری کا قائل
یہ تو اس آنکھ نے کھولا کہ فسُوں ہے، یوں ہے
اس کو نظر ہٹا کے اگر دیکھنا ہوا
کیسے ملے گا وقت مجھے بھاگتا ہوا
گھڑیوں کی بات چھوڑ کہ گھڑیاں تو سخت ہیں
رک جائے نہ یہ دل بھی اسے روکتا ہوا
یہ کائنات پھر سے مِری آگہی پہ کھول
اک حرفِ التجا ہے مِری ضد بنا ہوا
یوں تو ہر راہگزر میں منزل ہے
کم ہیں جن کی نظر میں منزل ہے
خود سے ملتی نہیں کبھی آ کر
جانے کس کے اثر میں منزل ہے
اب مجھے آسمان دور نہیں
اب مِرے بال و پر میں منزل ہے
عجیب توبہ تھی جسم و جاں کی
گنہ بھی کارِ ثواب نکلا
نظر کے دھوکے میں آ گئے سب
وہ سارا منظر سراب نکلا
اک جان کی کیا کھلی حقیقت
"عالم یہ تمام خواب نکلا"