Showing posts with label ظفر اقبال چونیاں. Show all posts
Showing posts with label ظفر اقبال چونیاں. Show all posts

Sunday, 2 October 2022

کس جنوں رت کی نمو آنکھ میں ہے

 کس جنوں رُت کی نمُو آنکھ میں ہے 

اب یہ دل ہے کہ لہو آنکھ میں ہے 

ڈھلتے سائے سے نگہ باندھ کے دیکھ

مستقل میں ہوں، نہ تو آنکھ میں ہے 

زندگی! دو ہی تو چہرے ہیں تِرے

یار دل میں، تو عدو آنکھ میں ہے 

Thursday, 25 August 2022

اس کی چاہت میں عجب دل کو سکوں ہے یوں ہے

 اس کی چاہت میں عجب دل کو سکوں ہے یوں ہے

وہ جو کہتا تھا محبت کو کہ؛ یوں ہے، یوں ہے

یہ جو ہم ایک فلک سر پہ لیے پھرتے ہیں

اس کی بنیاد نہ دامن میں ستوں ہے، یوں ہے

ورنہ، میں کب تھا کسی جادو گری کا قائل

یہ تو اس آنکھ نے کھولا کہ فسُوں ہے، یوں ہے

Thursday, 18 August 2022

اس کو نظر ہٹا کے اگر دیکھنا ہوا

 اس کو نظر ہٹا کے اگر دیکھنا ہوا 

کیسے ملے گا وقت مجھے بھاگتا ہوا 

گھڑیوں کی بات چھوڑ کہ گھڑیاں تو سخت ہیں 

رک جائے نہ یہ دل بھی اسے روکتا ہوا 

یہ کائنات پھر سے مِری آگہی پہ کھول 

اک حرفِ التجا ہے مِری ضد بنا ہوا

Wednesday, 17 August 2022

یوں تو ہر راہگزر میں منزل ہے

 یوں تو ہر راہگزر میں منزل ہے

کم ہیں جن کی نظر میں منزل ہے

خود سے ملتی نہیں کبھی آ کر

جانے کس کے اثر میں منزل ہے

اب مجھے آسمان دور نہیں

اب مِرے بال و پر میں منزل ہے

گنہ بھی کار ثواب نکلا

 عجیب توبہ تھی جسم و جاں کی

گنہ بھی کارِ ثواب نکلا

نظر کے دھوکے میں آ گئے سب

وہ سارا منظر سراب نکلا

اک جان کی کیا کھلی حقیقت

"عالم یہ تمام خواب نکلا"