Thursday, 18 August 2022

اس کو نظر ہٹا کے اگر دیکھنا ہوا

 اس کو نظر ہٹا کے اگر دیکھنا ہوا 

کیسے ملے گا وقت مجھے بھاگتا ہوا 

گھڑیوں کی بات چھوڑ کہ گھڑیاں تو سخت ہیں 

رک جائے نہ یہ دل بھی اسے روکتا ہوا 

یہ کائنات پھر سے مِری آگہی پہ کھول 

اک حرفِ التجا ہے مِری ضد بنا ہوا

 یہ آئینہ کہیں مِرا چہرہ نہ چھین لے 

سو حالتوں میں ایک ہی ڈر ہے لگا ہوا 

یہ آخری خلش تو مِری جان لے گئی 

تجھ سے ملا نہیں تھا کہ میں خود سے جدا ہوا 

اس دورِ بے ہنر میں تو کر شکر اے ظفر 

تجھ کو عطا ہوا ہے قلم بولتا ہوا 


ظفر اقبال(چونیاں والے)

No comments:

Post a Comment