بزمِ جاناں میں اگر اظہارِ حالِ دل نہ ہو
زندگی ہو جائے آساں موت بھی مشکل نہ ہو
کشتی عمر رواں کے ڈوبنے کا خوف کیا
آرزو ہے بحر الفت کا کوئی ساحل نہ ہو
کون امیدوں کو پالے راہِ وصلِ یار میں
قافلہ چلتا رہے کب تک اگر منزل نہ ہو
بزمِ جاناں میں اگر اظہارِ حالِ دل نہ ہو
زندگی ہو جائے آساں موت بھی مشکل نہ ہو
کشتی عمر رواں کے ڈوبنے کا خوف کیا
آرزو ہے بحر الفت کا کوئی ساحل نہ ہو
کون امیدوں کو پالے راہِ وصلِ یار میں
قافلہ چلتا رہے کب تک اگر منزل نہ ہو
گلشنِ زیست میں گل ریز شمائل ہو جاؤ
آئینہ بن کے زمانہ کے مقابل ہو جاؤ
زندگی میری ہے پیچیدہ بہت پہلے ہی
عقدۂ زلف کی مانند نہ مشکل ہو جاؤ
مثلِ سیماب تمہیں کیسے تڑپتا دیکھوں
اس لیے میں نہیں کہتا کہ مِرا دل ہو جاؤ
حیا ہے عارض و لب پر خمار آنکھوں میں
یہ کس نے رکھ دی ہے تصویرِ یار آنکھوں میں
خلش جفا کی نہ تھی بے قرار آنکھوں میں
ستارے کیوں ہیں شبِ انتظار آنکھوں میں
چھپا کے رکھ لے مِرا حالِ زار آنکھوں میں
نہ ڈوب جاؤں کہیں اشکبار آنکھوں میں
حسین چاند سا چہرہ خمار آنکھوں میں
کہاں سے آئے ہو بے اختیار آنکھوں میں
نہ وہ چمن ہے نہ رنگِ بہار آنکھوں میں
رہا نہ لطفِ نظر اشکبار آنکھوں میں
بلا سے وعدہ تجھے اپنا یاد ہو کہ نہ ہو
امید قلب میں ہے، انتظار آنکھوں میں
کیا وصل کی حسرت شبِ ہجراں سے مجھے کیا
آوارۂ صحرا ہوں دل و جاں سے مجھے کیا
مشکل ہے محبت میں جہاں سانس بھی لینا
میں کون تِری کاکلِ پیچاں سے مجھے کیا
سب چاک ہوئے عرصۂ آشفتہ سری میں
کیا فکر ہے دامن کی گریباں سے مجھے کیا
ذکر جاناں دل ناشاد کرے گا کب تک
بھولنے والے کو تُو یاد کرے گا کب تک
دشتِ غربت میں ہوں آوارہ بگولے کی طرح
شوقِ منزل مجھے برباد کرے گا کب تک
قید گیسوئے گِرہ گیر ہے منظور، مگر
کون جانے کہ وہ آزاد کرے گا کب تک
کوچۂ یار میں مجروحِ دل و جاں ہو کر
سانس لیتا ہوں میں دنیا سے پشیماں ہو کر
زیرِ آوارگئی گردشِ دوراں ہوکر
خود کو سمجھا ہوں مگر چاک گریباں ہو کر
دستِ قدرت سے سنورنے کی توقع رکھوں
یا بکھر جاؤں تِری زلفِ پریشاں ہو کر
کوئی منزل ہے محبت کی نہ جادہ میرا
مجھ سے کیا پوچھ رہے ہیں وہ ارادہ میرا
جس کو قسمت کرے محروم خوشی کیا اسکی
کیوں اڑاتے ہو مذاق اور زیادہ میرا
پُرسکوں رات کی تنہائی نہ دن کے لمحے
دھوپ نے چھین لیا مجھ سے لبادہ میرا
اگرچہ عہدِ ملاقات کو زمانہ ہوا
تمہارے ہجر میں کیا کچھ نہ بیتی کیا نہ ہوا
دلِ حزیں میں کسک رہ گئی محبت کی
یہ اور بات کہ اظہارِ مدعا نہ ہوا
ترس گیا میں تِری ایک جنبشِ لب کو
قرار دینے کوئی لفظ بھی ادا نہ ہوا
بسوزِ زخمِ جگر کیسے ہاؤ ہو کرتے
اگر نہ عشق میں ہم ترکِ آرزو کرتے
تمہاری آنکھوں نے بہکا دیا ہمیں ورنہ
کبھی نہ جشنِ شبِ بادہ و سبو کرتے
نہ جانے کتنی نگاہوں سے گر گئے ہوتے
بیاں جو حشر میں ہم وجہِ آرزو کرتے
پرسشِ غم کا تقاضا ہے نہ قربت کی طلب
دشمنِ جاں سے بھلا کیوں ہو مروت کی طلب
میرا ایماں ہے تِری چشمِ عنایت کی طلب
مقصدِ زیست نہیں ہے زر و دولت کی طلب
پاسِ ناموسِ وفا راہنمائے دل ہے
حسرتِ دید ہے اظہارِ حقیقت کی طلب
نام دینا اسے مشکل ہے بہت رہبر کا
مثل صیاد جو دشمن ہوا بال و پر کا
دشت گردی میں سجھائی نہیں دیتا کچھ بھی
ڈررہا ہوں کہ پتہ بھول نہ جاؤں گھر کا
سنگ در میں وہ کشش ہے کہ جبیں سائی سے
غیر ممکن ہے کسی طرح اٹھانا سر کا
کوئی افواہ سنا جھوٹی خبر دے مجھ کو
یاس کی رات میں امیدِ سحر دے مجھ کو
کیوں ملا دیتا ہے مٹی میں محبت کے گہر
چند آنسو کبھی اے دیدۂ تر دے مجھ کو
آئینہ سامنے رکھا ہے اندھیرے جیسا
خود کو پہچان سکوں ایسی نظر دے مجھ کو