ذکر جاناں دل ناشاد کرے گا کب تک
بھولنے والے کو تُو یاد کرے گا کب تک
دشتِ غربت میں ہوں آوارہ بگولے کی طرح
شوقِ منزل مجھے برباد کرے گا کب تک
قید گیسوئے گِرہ گیر ہے منظور، مگر
کون جانے کہ وہ آزاد کرے گا کب تک
حسبِ معمول ہے اندازِ تغافل اس کا
دیکھنا یہ ہے کہ بیداد کرے گا کب تک
جان دے دے گا تِرا چاہنے والا آخر
تجھ سے بے درد سے فریاد کرے گا کب تک
کچھ نہ کچھ فیصلہ ہو جائے گا میرا اس کا
روز اک عذر وہ ایجاد کرے گا کب تک
مجھ کو اپنوں سے شکایت ہے مگر اے ناظرؔ
کوئی ویرانے کو آباد کرے گا کب تک
عبداللہ ناظر
No comments:
Post a Comment