Showing posts with label دواکر راہی. Show all posts
Showing posts with label دواکر راہی. Show all posts

Saturday, 28 October 2023

وہ وقت جو تری آغوش میں گذارا ہے

 وہ وقت جو تِری آغوش میں گزارا ہے

اسی کی یاد مِری زیست کا سہارا ہے

وقارِ خونِ شہیدانِ کربلا کی قسم

یزید مورچہ جیتا ہے، جنگ ہارا ہے

نشاطِ دل کیلئے جب بھی کوششیں کی ہے

کسی کی یاد نے احساسِ غم ابھارا ہے

Wednesday, 16 March 2022

کچھ آدمی سماج پہ بوجھل ہیں آج بھی

 کچھ آدمی سماج پہ بوجھل ہیں آج بھی

رسی تو جل گئی ہے مگر بل ہیں آج بھی

انسانیت کو قتل کیا جائے اس لیے

دیر و حرم کی آڑ میں مقتل ہیں آج بھی

اب بھی وہی ہے رسم و روایت کی بندگی

مطلب یہ ہے کہ ذہن مقفل ہیں آج بھی

Saturday, 19 February 2022

ہزاروں بار کہہ کر بے وفا کو با وفا میں نے

 ہزاروں بار کہہ کر بے وفا کو با وفا میں نے

بتایا ہے زمانے کو وفا کا راستہ میں نے

بڑی عزت سے اہل< جرم میرا نام لیتے ہیں

گنہ گاروں کو اک دن کہہ دیا تھا پارسا میں نے

تم اپنے آپ کو کچھ بھی کہو مذہب کے دیوانو

نہ دیکھا کوئی تم جیسا خدا نا آشنا میں نے

Friday, 21 January 2022

اس شہر نگاراں کی کچھ بات نرالی ہے

 اس شہر نگاراں کی کچھ بات نرالی ہے

ہر ہاتھ میں دولت ہے ہر آنکھ سوالی ہے

شاید غم دوراں کا مارا کوئی آ جائے

اس واسطے ساغر میں تھوڑی سی بچا لی ہے

ہم لوگوں سے یہ دنیا بدلی نہ گئی لیکن

ہم نے نئی دنیا کی بنیاد تو ڈالی ہے

Thursday, 9 September 2021

ذہن انساں کو جب جھنجھوڑے گا

 ذہن انساں کو جب جھنجھوڑے گا

غم طلسمِ فریب توڑے گا

پنجۂ ظلم جو مروڑے گا

اپنا رشتہ خدا سے جوڑے گا

وقت برباد کرنے والے کو

وقت برباد کر کے چھوڑے گا

Tuesday, 23 March 2021

اظہار مدعا پہ یہ عالم حجاب کا

اظہارِ مدعا پہ یہ عالم حجاب کا

انداز دیکھے ذرا ان کے جواب کا

تاریخ کا جو موڑ دے رخ اے مورخو

پیغام دے رہا ہوں میں اس انقلاب کا

مجھ کو تِری نگاہِ کرم پر ہے اعتماد

شیخِ حرم کو خوف ہے تیرے عتاب کا

Tuesday, 17 November 2020

اب تو اتنی بھی میسر نہیں میخانے میں

 اب تو اتنی بھی میسر نہیں میخانے میں

جتنی ہم چھوڑ دیتے تھے پیمانے میں

لوگ ایسے بھی چلے آتے ہیں میخانے میں

زہر جو گھول دیا کرتے ہیں پیمانے میں

کفر و ایماں کا تعلق ہے یقیں سے ورنہ

کچھ نہ کعبے میں رکھا ہے نہ صنم خانے میں