وہ وقت جو تِری آغوش میں گزارا ہے
اسی کی یاد مِری زیست کا سہارا ہے
وقارِ خونِ شہیدانِ کربلا کی قسم
یزید مورچہ جیتا ہے، جنگ ہارا ہے
نشاطِ دل کیلئے جب بھی کوششیں کی ہے
کسی کی یاد نے احساسِ غم ابھارا ہے
وہ وقت جو تِری آغوش میں گزارا ہے
اسی کی یاد مِری زیست کا سہارا ہے
وقارِ خونِ شہیدانِ کربلا کی قسم
یزید مورچہ جیتا ہے، جنگ ہارا ہے
نشاطِ دل کیلئے جب بھی کوششیں کی ہے
کسی کی یاد نے احساسِ غم ابھارا ہے
کچھ آدمی سماج پہ بوجھل ہیں آج بھی
رسی تو جل گئی ہے مگر بل ہیں آج بھی
انسانیت کو قتل کیا جائے اس لیے
دیر و حرم کی آڑ میں مقتل ہیں آج بھی
اب بھی وہی ہے رسم و روایت کی بندگی
مطلب یہ ہے کہ ذہن مقفل ہیں آج بھی
ہزاروں بار کہہ کر بے وفا کو با وفا میں نے
بتایا ہے زمانے کو وفا کا راستہ میں نے
بڑی عزت سے اہل< جرم میرا نام لیتے ہیں
گنہ گاروں کو اک دن کہہ دیا تھا پارسا میں نے
تم اپنے آپ کو کچھ بھی کہو مذہب کے دیوانو
نہ دیکھا کوئی تم جیسا خدا نا آشنا میں نے
اس شہر نگاراں کی کچھ بات نرالی ہے
ہر ہاتھ میں دولت ہے ہر آنکھ سوالی ہے
شاید غم دوراں کا مارا کوئی آ جائے
اس واسطے ساغر میں تھوڑی سی بچا لی ہے
ہم لوگوں سے یہ دنیا بدلی نہ گئی لیکن
ہم نے نئی دنیا کی بنیاد تو ڈالی ہے
ذہن انساں کو جب جھنجھوڑے گا
غم طلسمِ فریب توڑے گا
پنجۂ ظلم جو مروڑے گا
اپنا رشتہ خدا سے جوڑے گا
وقت برباد کرنے والے کو
وقت برباد کر کے چھوڑے گا
اظہارِ مدعا پہ یہ عالم حجاب کا
انداز دیکھے ذرا ان کے جواب کا
تاریخ کا جو موڑ دے رخ اے مورخو
پیغام دے رہا ہوں میں اس انقلاب کا
مجھ کو تِری نگاہِ کرم پر ہے اعتماد
شیخِ حرم کو خوف ہے تیرے عتاب کا
اب تو اتنی بھی میسر نہیں میخانے میں
جتنی ہم چھوڑ دیتے تھے پیمانے میں
لوگ ایسے بھی چلے آتے ہیں میخانے میں
زہر جو گھول دیا کرتے ہیں پیمانے میں
کفر و ایماں کا تعلق ہے یقیں سے ورنہ
کچھ نہ کعبے میں رکھا ہے نہ صنم خانے میں