اب تو اتنی بھی میسر نہیں میخانے میں
جتنی ہم چھوڑ دیتے تھے پیمانے میں
لوگ ایسے بھی چلے آتے ہیں میخانے میں
زہر جو گھول دیا کرتے ہیں پیمانے میں
کفر و ایماں کا تعلق ہے یقیں سے ورنہ
کچھ نہ کعبے میں رکھا ہے نہ صنم خانے میں
دست قدرت کا کرشمہ ہے کہ ہر موسم میں
خود بخود پھول کھلا کرتے ہیں ویرانے میں
چشم مے بار کو دیکھا تو یہ محسوس ہوا
جیسے مے خانہ سمٹ آیا ہو پیمانے میں
غور سے اس کو سنے گا تو تجھے اے راہی
اک حقیقت بھی ملے گی مرے افسانے میں
دواکر راہی
No comments:
Post a Comment