Tuesday, 17 November 2020

اب تو اتنی بھی میسر نہیں میخانے میں

 اب تو اتنی بھی میسر نہیں میخانے میں

جتنی ہم چھوڑ دیتے تھے پیمانے میں

لوگ ایسے بھی چلے آتے ہیں میخانے میں

زہر جو گھول دیا کرتے ہیں پیمانے میں

کفر و ایماں کا تعلق ہے یقیں سے ورنہ

کچھ نہ کعبے میں رکھا ہے نہ صنم خانے میں

دست قدرت کا کرشمہ ہے کہ ہر موسم میں

خود بخود پھول کھلا کرتے ہیں ویرانے میں

چشم مے بار کو دیکھا تو یہ محسوس ہوا

جیسے مے خانہ سمٹ آیا ہو پیمانے میں

غور سے اس کو سنے گا تو تجھے اے راہی

اک حقیقت بھی ملے گی مرے افسانے میں


دواکر راہی

No comments:

Post a Comment