عجب سوال ہوئے جو کہ حل نہیں ہوتے
جو آج ہوتے ہیں وہ لوگ کل نہیں ہوتے
نہیں رہے مِرے بابا تو یہ سمجھ آیا
بہت سے رشتوں کے نعم البدل نہیں ہوتے
اے کاش آپ بچھڑتے نہ یوں کبھی ہم سے
اے کاش آپ ہی لقمۂ اجل نہیں ہوتے
عجب سوال ہوئے جو کہ حل نہیں ہوتے
جو آج ہوتے ہیں وہ لوگ کل نہیں ہوتے
نہیں رہے مِرے بابا تو یہ سمجھ آیا
بہت سے رشتوں کے نعم البدل نہیں ہوتے
اے کاش آپ بچھڑتے نہ یوں کبھی ہم سے
اے کاش آپ ہی لقمۂ اجل نہیں ہوتے
آدمی خاک بنا جاتا ہے
تُو بتا! ہجر کسے بھاتا ہے
ہم جسے بُھول رہے ہوتے ہیں
یاد رکھ! یاد وہی آتا ہے
عشق دیتا ہے سکوں بھی دل کو
پھر کہیں آگ لگا پاتا ہے
سننے والوں کو فقط فرضی بیاں لگتا ہے
ہر تِرا بول مِرے دل پہ، یہاں لگتا ہے
اک تِرے بعد کوئی شخص کہیں پر بھی ہو
ہو بھلے ڈھیر حسیں، دل کو کہاں لگتا ہے
بارہا تجھ کو بتایا ہے تِرے بِن مجھ کو
زندگی بوجھ لگے، درد رواں لگتا ہے
ہجر میں ٹوٹ کہیں درد سے ہارا ہو گا
یاد کی راکھ جلا،۔ وقت گزارا ہو گا
تُو مِری دیکھ ہنسی، دیکھ ہنسی ایسی ہے
جس طرح اوڑھ ہنسی ، درد اتارا ہو گا
جا، اسی روز تِری سمت چلی آنا ہے
جب تِرا یار! مِری سمت اشارہ ہو گا
اے یارِ خوش جمال کبھی دیکھ آن کے
بیٹھے ہیں ایک ایک تِری یاد چھان کے
میں نے ہزار مان لیں تیری تُو ایک بار
آ جا، پلٹ کے یار مِری ایک مان کے
آتا نہیں نظر جو حقیقت میں تُو کبھی
سو جاتے ہیں آنکھوں پہ ترے خواب تان کے
سوچ کے خود ہی بتائیں یہ بتانے والے
تُو نے سیکھے ہیں جو انداز زمانے والے
آدھے رستے سے پلٹنے کی اذیت کیا ہے
تُو نے سوچا ہی نہیں ہاتھ چھڑانے والے
تجھ پہ اس وقت کھلے گا کہ اذیت کیا ہے
تجھ سے جب روٹھ گئے تجھ کو منانے والے
آج میں امی سے مل کر آئی ہوں
آج تمہاری امی سے مل کر آئی ہوں
سر پر ہاتھ رکھا تو مانو روح تلک تاثیر گئی تھی
اک پل کو محسوس ہوا کہ
دکھ، درد سبھی کہیں دور کھڑے حسرت سے مجھ کو تکتے ہوں
ہم نے ڈھیروں باتیں کیں
اب مجھ میں حال کہنے کا بھی حوصلہ نہیں
بس ہجر ہے ذرا سا، کوئی مسئلہ نہیں
مت پوچھ کیسا ربط ہوا، اب کے درمیاں
ہم مل نہیں رہے ہیں، مگر فاصلہ نہیں
اک شخص کے وسیلے سے آئے ہیں مِرے پاس
مِرا تو ان دُکھوں سے، کوئی واسطہ نہیں
روٹھ جانا تو کبھی اس کو مناتے رہنا
دور جا کے اسے خوابوں میں بلاتے رہنا
گر یہی ضد ہے تمہاری تو مِرے ساتھ رہو
پر مجھے ہجر کا احساس دلاتے رہنا
اس کا کہنا کہ کوئی بات نہیں سننی اب
میرا اک بات اسے روز سناتے رہنا
تمہاری آنکھوں کو کیا ہوا ہے
مجھے نہ پوچھو
یہ میری حالت، بجھی سی آنکھیں
تمہیں تو ان کا سبب پتا ہے
کہ سب پتا ہے
مجھے بتاؤ
ابھی تو اوروں کا سن کر ہی جی ڈرا ہوا ہے
بِنا کیے ہی محبت سے جی بھرا ہوا ہے
اسی کی دِید میں رکھا گیا ہے میرا سکوں
وہ دور غیر کے پہلو میں جو کھڑا ہوا ہے
کسی کی آہٹیں پا کر یہ دل دھڑکتا ہے
کسی کے ہنسنے پہ کب سے یہ دل مَرا ہوا ہے
یہ ایک کام نہیں ہو سکا ذرا تجھ سے
کہ عشق مرتے ہوئے بھی نہیں مِرا تجھ سے
مٹا رہی ہے کوئی بیل اس کو اندر سے
تبھی وہ پیڑ نہیں ہو رہا ہرا تجھ سے
ذرا سا بیٹھ ابھی اور بات کر مجھ سے
حسین شخص مرا دل نہیں بھرا تجھ سے
خود اپنے آپ کو سمجھا لیا تو
کسی نے زہر ہنس کر کھا لیا تو
تو پھر کیا سانس چلنے کا سبب ہو
محل خوابوں کا بھی گر ڈھا لیا تو
تمہارے پاس سب ہوتے ہوئے بھی
تمہیں میری کمی نے آ لیا تو
ابھی اک کام نمٹانا ہے مجھ کو
کسی کو دل میں دفنانا ہے مجھ کو
تُو میرا درد سننے آیا ہے؟ یا
تجھے بھی صرف سمجھانا ہے مجھ کو
وہ اٹھ کے چل دیا، تو یاد آیا
اسے کچھ اور بتلانا ہے مجھ کو
یوں کہانی کا رخ میں موڑ آئی
خود کو مارا اور اس کو توڑ آئی
بھول تھی میری کہ میں بھولے سے
دل کا رشتہ کسی سے جوڑ آئی
میرے غصے کا ہے کرم کہ تِری
اک نشانی تھی وہ بھی موڑ آئی
ایک چاہت کے لیے خود کو مٹا دیتے ہیں
ہم ہیں وہ لوگ جو گھر بار لٹا دیتے ہیں
وہ محبت میں جو پہلو میں جگہ دیتے ہیں
جب ہو غصہ تو ذرا دور بٹھا دیتے ہیں
میں وہ پتھر ہوں جسے خالی جگہ بچنے پر
ایک دو دن کو لگاتے ہیں ہٹا دیتے ہیں
تجھے پتا ہے تِری ذات رٹ گئی کتنی
تجھے پتا ہے مِری ذات بٹ گئی کتنی
تجھے پتا ہے مِرا درد کم نہیں ہوتا
تجھے پتا ہے رگِ جان کٹ گئی کتنی
تجھے پتا ہے تِرا ہجر کھا رہا ہے مجھے
تجھے پتا ہے مِری عمر گھٹ گئی کتنی
مجھ ایسے لوگ تو اے یار نہ اجڑے نہ بسے
کہ لگ گئے ہیں جنہیں تجھ کو دیکھنے کے نشے
تُو اس کا لہجہ تو چکھ لے کہ پھر ملے نہ ملے
تُو اس سے بات تو کر لے کہ پھر بنے نہ بنے
تُو ایسے شخص کے دل کا ملال کیا جانے
جو آئے تیری ہنسی دیکھنے کو، تُو نہ ہنسے
میں تِرے عشق پہ ایمان نہیں لا سکتی
معذرت ہے کہ مِری جان نہیں لا سکتی
گر تُو چاہے تو مِرے درد مجھی سے سن لے
اب میں دیواروں کے تو کان نہیں لا سکتی
یہ جدائی ہی مقدر ہے، مگر میری دعا
عرش سے وصل کا فرمان نہیں لا سکتی
گر کوئی بات ہے تو کر مجھ سے
یوں بنا بات کے نہ بھر مجھ سے
چھین لیتی ہوں میں ہنسی لب کی
میں محبت ہوں یار! ڈر مجھ سے
بات جو تھی، لبوں پہ آ ہی گئی
اب نہ یوں کر اگر، مگر مجھ سے