Showing posts with label مالا راجپوت. Show all posts
Showing posts with label مالا راجپوت. Show all posts

Monday, 9 October 2023

عجب سوال ہوئے جو کہ حل نہیں ہوتے

 عجب سوال ہوئے جو کہ حل نہیں ہوتے

جو آج ہوتے ہیں وہ لوگ کل نہیں ہوتے

نہیں رہے مِرے بابا تو یہ سمجھ آیا

بہت سے رشتوں کے نعم البدل نہیں ہوتے

اے کاش آپ بچھڑتے نہ یوں کبھی ہم سے

اے کاش آپ ہی لقمۂ اجل نہیں ہوتے

Wednesday, 28 June 2023

آدمی خاک بنا جاتا ہے

 آدمی خاک بنا جاتا ہے

تُو بتا! ہجر کسے بھاتا ہے

ہم جسے بُھول رہے ہوتے ہیں

یاد رکھ! یاد وہی آتا ہے

عشق دیتا ہے سکوں بھی دل کو

پھر کہیں آگ لگا پاتا ہے

Friday, 30 December 2022

سننے والوں کو فقط فرضی بیاں لگتا ہے

 سننے والوں کو فقط فرضی بیاں لگتا ہے

ہر تِرا بول مِرے دل پہ، یہاں لگتا ہے

اک تِرے بعد کوئی شخص کہیں پر بھی ہو

ہو بھلے ڈھیر حسیں، دل کو کہاں لگتا ہے

بارہا تجھ کو بتایا ہے تِرے بِن مجھ کو

زندگی بوجھ لگے، درد رواں لگتا ہے

Saturday, 16 April 2022

ہجر میں ٹوٹ کہیں درد سے ہارا ہو گا

ہجر میں ٹوٹ کہیں درد سے ہارا ہو گا

یاد کی راکھ جلا،۔ وقت گزارا ہو گا

تُو مِری دیکھ ہنسی، دیکھ ہنسی ایسی ہے

جس طرح اوڑھ ہنسی ، درد اتارا ہو گا

جا، اسی روز تِری سمت چلی آنا ہے

جب تِرا یار! مِری سمت اشارہ ہو گا

Thursday, 14 April 2022

اے یار خوش جمال کبھی دیکھ آن کے

 اے یارِ خوش جمال کبھی دیکھ آن کے

بیٹھے ہیں ایک ایک تِری یاد چھان کے

میں نے ہزار مان لیں تیری تُو ایک بار

آ جا، پلٹ کے یار مِری ایک مان کے

آتا نہیں نظر جو حقیقت میں تُو کبھی

سو جاتے ہیں آنکھوں پہ ترے خواب تان کے

Sunday, 6 February 2022

سوچ کے خود ہی بتائیں یہ بتانے والے

 سوچ کے خود ہی بتائیں یہ بتانے والے

تُو نے سیکھے ہیں جو انداز زمانے والے

آدھے رستے سے پلٹنے کی اذیت کیا ہے

تُو نے سوچا ہی نہیں ہاتھ چھڑانے والے

تجھ پہ اس وقت کھلے گا کہ اذیت کیا ہے

تجھ سے جب روٹھ گئے تجھ کو منانے والے

Tuesday, 8 June 2021

آج میں امی سے مل کر آئی ہوں

 آج میں امی سے مل کر آئی ہوں


آج تمہاری امی سے مل کر آئی ہوں

سر پر ہاتھ رکھا تو مانو روح تلک تاثیر گئی تھی

اک پل کو محسوس ہوا کہ

دکھ، درد سبھی کہیں دور کھڑے حسرت سے مجھ کو تکتے ہوں

ہم نے ڈھیروں باتیں کیں

Saturday, 5 June 2021

اب مجھ میں حال کہنے کا بھی حوصلہ نہیں

 اب مجھ میں حال کہنے کا بھی حوصلہ نہیں

بس ہجر ہے ذرا سا، کوئی مسئلہ نہیں

مت پوچھ کیسا ربط ہوا، اب کے درمیاں

ہم مل نہیں رہے ہیں، مگر فاصلہ نہیں

اک شخص کے وسیلے سے آئے ہیں مِرے پاس

مِرا تو ان دُکھوں سے، کوئی واسطہ نہیں

Monday, 8 March 2021

روٹھ جانا تو کبھی اس کو مناتے رہنا

 روٹھ جانا تو کبھی اس کو مناتے رہنا

دور جا کے اسے خوابوں میں بلاتے رہنا

گر یہی ضد ہے تمہاری تو مِرے ساتھ رہو

پر مجھے ہجر کا احساس دلاتے رہنا

اس کا کہنا کہ کوئی بات نہیں سننی اب

میرا اک بات اسے روز سناتے رہنا

Saturday, 20 February 2021

تمہاری آنکھوں کو کیا ہوا ہے

تمہاری آنکھوں کو کیا ہوا ہے


 مجھے نہ پوچھو

یہ میری حالت، بجھی سی آنکھیں

تمہیں تو ان کا سبب پتا ہے

کہ سب پتا ہے

مجھے بتاؤ

Tuesday, 2 February 2021

ابھی تو اوروں کا سن کر ہی جی ڈرا ہوا ہے

 ابھی تو اوروں کا سن کر ہی جی ڈرا ہوا ہے

بِنا کیے ہی محبت سے جی بھرا ہوا ہے

اسی کی دِید میں رکھا گیا ہے میرا سکوں

وہ دور غیر کے پہلو میں جو کھڑا ہوا ہے

کسی کی آہٹیں پا کر یہ دل دھڑکتا ہے

کسی کے ہنسنے پہ کب سے یہ دل مَرا ہوا ہے

Monday, 5 October 2020

یہ ایک کام نہیں ہو سکا ذرا تجھ سے

 یہ ایک کام نہیں ہو سکا ذرا تجھ سے

کہ عشق مرتے ہوئے بھی نہیں مِرا تجھ سے

مٹا رہی ہے کوئی بیل اس کو اندر سے

تبھی وہ پیڑ نہیں ہو رہا ہرا تجھ سے

ذرا سا بیٹھ ابھی اور بات کر مجھ سے

حسین شخص مرا دل نہیں بھرا تجھ سے

Sunday, 4 October 2020

خود اپنے آپ کو سمجھا لیا تو

 خود اپنے آپ کو سمجھا لیا تو

کسی نے زہر ہنس کر کھا لیا تو

تو پھر کیا سانس چلنے کا سبب ہو

محل خوابوں کا بھی گر ڈھا لیا تو

تمہارے پاس سب ہوتے ہوئے بھی

تمہیں میری کمی نے آ لیا تو

ابھی اک کام نمٹانا ہے مجھ کو

 ابھی اک کام نمٹانا ہے مجھ کو

کسی کو دل میں دفنانا ہے مجھ کو

تُو میرا درد سننے آیا ہے؟ یا

تجھے بھی صرف سمجھانا ہے مجھ کو

وہ اٹھ کے چل دیا، تو یاد آیا

اسے کچھ اور بتلانا ہے مجھ کو

Saturday, 3 October 2020

یوں کہانی کا رخ میں موڑ آئی

 یوں کہانی کا رخ میں موڑ آئی

خود کو مارا اور اس کو توڑ آئی

بھول تھی میری کہ میں بھولے سے

دل کا رشتہ کسی سے جوڑ آئی

میرے غصے کا ہے کرم کہ تِری

اک نشانی تھی وہ بھی موڑ آئی

ایک چاہت کے لیے خود کو مٹا دیتے ہیں

 ایک چاہت کے لیے خود کو مٹا دیتے ہیں

ہم ہیں وہ لوگ جو گھر بار لٹا دیتے ہیں

وہ محبت میں جو پہلو میں جگہ دیتے ہیں

جب ہو غصہ تو ذرا دور بٹھا دیتے ہیں

میں وہ پتھر ہوں جسے خالی جگہ بچنے پر

ایک دو دن کو لگاتے ہیں ہٹا دیتے ہیں

Thursday, 1 October 2020

تجھے پتا ہے تری ذات رٹ گئی کتنی

 تجھے پتا ہے تِری ذات رٹ گئی کتنی

تجھے پتا ہے مِری ذات بٹ گئی کتنی

تجھے پتا ہے مِرا درد کم نہیں ہوتا

تجھے پتا ہے رگِ جان کٹ گئی کتنی

تجھے پتا ہے تِرا ہجر کھا رہا ہے مجھے

تجھے پتا ہے مِری عمر گھٹ گئی کتنی

Wednesday, 30 September 2020

مجھ ایسے لوگ تو اے یار نہ اجڑے نہ بسے

 مجھ ایسے لوگ تو اے یار نہ اجڑے نہ بسے

کہ لگ گئے ہیں جنہیں تجھ کو دیکھنے کے نشے

تُو اس کا لہجہ تو چکھ لے کہ پھر ملے نہ ملے

تُو اس سے بات تو کر لے کہ پھر بنے نہ بنے

تُو ایسے شخص کے دل کا ملال کیا جانے

جو آئے تیری ہنسی دیکھنے کو، تُو نہ ہنسے

Monday, 28 September 2020

میں ترے عشق پہ ایمان نہیں لا سکتی

 میں تِرے عشق پہ ایمان نہیں لا سکتی

معذرت ہے کہ مِری جان نہیں لا سکتی

گر تُو چاہے تو مِرے درد مجھی سے سن لے

اب میں دیواروں کے تو کان نہیں لا سکتی

یہ جدائی ہی مقدر ہے، مگر میری دعا

عرش سے وصل کا فرمان نہیں لا سکتی

Sunday, 27 September 2020

گر کوئی بات ہے تو کر مجھ سے

 گر کوئی بات ہے تو کر مجھ سے

یوں بنا بات کے نہ بھر مجھ سے

چھین لیتی ہوں میں ہنسی لب کی

میں محبت ہوں یار! ڈر مجھ سے

بات جو تھی، لبوں پہ آ ہی گئی

اب نہ یوں کر اگر، مگر مجھ سے