عجب سوال ہوئے جو کہ حل نہیں ہوتے
جو آج ہوتے ہیں وہ لوگ کل نہیں ہوتے
نہیں رہے مِرے بابا تو یہ سمجھ آیا
بہت سے رشتوں کے نعم البدل نہیں ہوتے
اے کاش آپ بچھڑتے نہ یوں کبھی ہم سے
اے کاش آپ ہی لقمۂ اجل نہیں ہوتے
بہت سے درد محبت کی دَین ہوتے ہیں
میں مانتی ہوں کہ پہلے پہل نہیں ہوتے
کسی سے یہ نہیں پوچھو کہ کیوں محبت ہے
خدائی کام میں ایسے مُخل نہیں ہوتے
تمہارے دل کے علاقے میں آ کے ہارے ہم
وگرنہ، ہم کبھی بھی نا اہل نہیں ہوتے
بہت طویل مُسافت کے بعد مجھ پہ کُھلا
کہ زندگی کے یہ رستے سجل نہیں ہوتے
تُو دیکھ لے کہ لڑکپن سے اس جوانی تک
ہمارے خواب کے کب پیر شل نہیں ہوتے
ہمارے بس میں نہیں ہے کہ ہم اداس نہ ہوں
یہ تیرا حکم ہے تو ٹھیک، چل، نہیں ہوتے
انہی کو دیکھے ہوئے مُدتیں ہوئیں مالا
جو لوگ دل سے جدا ایک پل نہیں ہوتے
مالا راجپوت
No comments:
Post a Comment