کوئی نظروں میں سمائے تو غزل ہوتی ہے
چاہ💓دیوانہ بنائے تو غزل ہوتی ہے
درد جب حشر جگائے تو غزل ہوتی ہے
آہ جب راہ نہ پائے تو غزل ہوتی ہے
جام پر جام چھلکتے ہوں تِری نظروں کے
اور گھٹا جھُوم کے آئے تو غزل ہوتی ہے
دل کو دیوانۂ دیدار بنا کر کوئی💕
پردہ چہرے سے اُٹھائے تو غزل ہوتی ہے
ہو کے مائل بہ کرم غیر پہ دلبر کوئی
دل پہ آرا سا چلائے تو غزل ہوتی ہے
شیخ آسان نہیں تسخیرِ سخن کی منزل
زندگی راس نہ آئے تو غزل ہوتی ہے
نور احمد شیخ
No comments:
Post a Comment