Showing posts with label احمد رئیس. Show all posts
Showing posts with label احمد رئیس. Show all posts

Sunday, 1 January 2023

گزرے جو حوادث نہیں آئیں گے گماں میں

 گزرے جو حوادث نہیں آئیں گے گماں میں

ہے خاک بدن چاک جگر عشق بتاں میں

استاد کسی اور کو خاطر میں نہ لائے

اِترائے سرِ عام کہ ہوں اہلِ زباں میں

ہر لفظ ہے اشعار کا آواز دلوں کی

ہے نقص کہیں بول مِرے طرزِ بیاں میں

Monday, 10 October 2022

تو پتلا خاک کا یہ ابتدا ہے

 تُو پتلا خاک کا یہ ابتداء ہے

تِری سِدرہ سے آگے انتہا ہے

یہاں کرب و بلا ہے چاروں جانب

کوئی زینب یہاں بھی بے ردا ہے

یہاں ہے اہلِ حق کو جاودانی

وگرنہ نیزے پر تو حق چڑھا ہے

Tuesday, 28 June 2022

وادئ کشمیر جو ہر رنگ میں تھی بے نظیر

وادئ کشمیر جو ہر رنگ میں تھی بے نظیر

اہل دنیا جس کو کہتے تھے ہے ایرانِ صغیر

اک زمیں پر عکس جنت نام بھی تھا تابدار

تھے کرشمے بھی یہاں قدرت کے کتنے بے شمار


نسل آدم کس طرح کھاتی ہےاب سینے پہ تیر

شیخ ہو یا کوئی وانی، ڈار ہو یا کوئی میر

Tuesday, 25 January 2022

میری بیاض شعر پہ وہ نام لکھ گیا

 میری بیاض شعر پہ وہ نام لِکھ گیا

اک خواب اور ایک حسیں شام لکھ گیا

دل اس کو ڈھونڈھتا ہے اسی کی تلاش ہے

چپکے سے اک دعا جو مِرے نام لکھ گیا

پھر اس سے کب ہو میری ملاقات دیکھیۓ

آغاز ہی میں جو مِرا انجام لکھ گیا

Monday, 29 November 2021

تیری اک اک یاد کو دل میں سمونے سے رہے

 تیری اک اک یاد کو دل میں سمونے سے رہے

خونِ دل میں انگلیاں اپنی ڈبونے سے رہے

چھیڑ دی جب شاعروں نے بات تیرے حسن کی

مدتوں کے جاگنے والے بھی سونے سے رہے

کیسے تجھ کو ہم دلائیں عشق کا اپنے یقیں

کیا ہوا جو اپنے دامن کو بھگونے سے رہے

Tuesday, 28 September 2021

عشق میں ہو جاں گزاری کس لیے

 عشق میں ہو جاں گزاری کس لیے

شامِ غم کی بے قراری کس لیے

وہ سبوں کو دیتا ہے جو چاہیے

رات بھر پھر آہ و زاری کس لیے

ایک ہی ہو قاتل و منصف جدھر

عدل کی پھر پاسداری کس لیے

Thursday, 16 September 2021

بزم یاراں سے نکلتے ہیں پریشاں دیکھئے

 بزمِ یاراں سے نکلتے ہیں پریشاں دیکھیۓ

کوئی مجنوں، کوئی عاشق، يا غزلخواں دیکھیۓ

ہوں صفِ عشّاق سے میں اک پشیماں دیکھیۓ

ہے یقیں تجھ کو نہیں چاک گریباں دیکھیۓ

خوب صورت لگ رہا ہے راہِ الفت دور سے

کر رہے قصدِ سفر کتنے ہیں مہماں دیکھیۓ

Saturday, 11 September 2021

تم ڈرایا نہ کرو یوں مجھے زندانوں سے

تم ڈرایا نہ کرو یوں مجھے زندانوں سے

میں ہوں مجنوں مِری نسبت ہے بیابانوں سے

بیج نفرت کے یہاں بوئے گئے ہیں ورنہ

اتنی وحشت نہیں ہوتی تجھے انسانوں سے

اپنا رشتہ ہے بہت دار و رسن سے گہرا

سر کٹانے کی نہ باتیں کرو دیوانوں سے

Friday, 10 September 2021

عین ممکن تھا بے وفا ہو گا

 عین ممکن تھا بے وفا ہو گا

اب خدا جانے کیا سے کیا ہو گا

پہلے حیراں تھا اس طرح کیسے

درمیاں اپنے فاصلہ ہو گا

میں بھی آخر بدل گیا جاناں

با خدا تُو بھی سوچتا ہو گا

Thursday, 9 September 2021

درد دل کی کبھی تشہیر نہ ہونے دینا

 دردِ دل کی کبھی تشہیر نہ ہونے دینا

سایۂ غم کو تو زنجیر نہ ہونے دینا

یار! اچھا تو نہیں روز کا آنا جانا

کم کبھی اپنی ہی توقیر نہ ہونے دینا

ہے وطن اپنا جسے سینچا لہو سے سب نے

اس کو یوں غیر کی جاگیر نہ ہونے دینا

Tuesday, 7 September 2021

ان وفاؤں کا فقط اتنا صلہ دے ہم کو

 ان وفاؤں کا فقط اتنا صلہ دے ہم کو

پیار گر جرم ہے تو آ کے سزا دے ہم کو

تیرے عاشق، تِری قسمت، تِری منزل ہیں ہم

ہیں اگر بیچ کی دیوار گرا دے ہم کو

پیکرِ خاک ہیں جاناں کہ ہیں واقف اس سے

دھول صحرا کی سمجھ کر ہی اڑا دے ہم کو

Tuesday, 1 December 2020

تعلق دل کا جیسے تیر سے ہے

 تعلق دل کا جیسے تیر سے ہے

مرا رشتہ قفس، زنجیر سے ہے

کسے افسوس ترکِ گفتگو پر

مگر شکوہ تری تصویر سے ہے

خوشی سے تُو بسا لےاپنی دنیا

غموں کا واسطہ دلگیر سے ہے