گزرے جو حوادث نہیں آئیں گے گماں میں
ہے خاک بدن چاک جگر عشق بتاں میں
استاد کسی اور کو خاطر میں نہ لائے
اِترائے سرِ عام کہ ہوں اہلِ زباں میں
ہر لفظ ہے اشعار کا آواز دلوں کی
ہے نقص کہیں بول مِرے طرزِ بیاں میں
گزرے جو حوادث نہیں آئیں گے گماں میں
ہے خاک بدن چاک جگر عشق بتاں میں
استاد کسی اور کو خاطر میں نہ لائے
اِترائے سرِ عام کہ ہوں اہلِ زباں میں
ہر لفظ ہے اشعار کا آواز دلوں کی
ہے نقص کہیں بول مِرے طرزِ بیاں میں
تُو پتلا خاک کا یہ ابتداء ہے
تِری سِدرہ سے آگے انتہا ہے
یہاں کرب و بلا ہے چاروں جانب
کوئی زینب یہاں بھی بے ردا ہے
یہاں ہے اہلِ حق کو جاودانی
وگرنہ نیزے پر تو حق چڑھا ہے
وادئ کشمیر جو ہر رنگ میں تھی بے نظیر
اہل دنیا جس کو کہتے تھے ہے ایرانِ صغیر
اک زمیں پر عکس جنت نام بھی تھا تابدار
تھے کرشمے بھی یہاں قدرت کے کتنے بے شمار
نسل آدم کس طرح کھاتی ہےاب سینے پہ تیر
شیخ ہو یا کوئی وانی، ڈار ہو یا کوئی میر
میری بیاض شعر پہ وہ نام لِکھ گیا
اک خواب اور ایک حسیں شام لکھ گیا
دل اس کو ڈھونڈھتا ہے اسی کی تلاش ہے
چپکے سے اک دعا جو مِرے نام لکھ گیا
پھر اس سے کب ہو میری ملاقات دیکھیۓ
آغاز ہی میں جو مِرا انجام لکھ گیا
تیری اک اک یاد کو دل میں سمونے سے رہے
خونِ دل میں انگلیاں اپنی ڈبونے سے رہے
چھیڑ دی جب شاعروں نے بات تیرے حسن کی
مدتوں کے جاگنے والے بھی سونے سے رہے
کیسے تجھ کو ہم دلائیں عشق کا اپنے یقیں
کیا ہوا جو اپنے دامن کو بھگونے سے رہے
عشق میں ہو جاں گزاری کس لیے
شامِ غم کی بے قراری کس لیے
وہ سبوں کو دیتا ہے جو چاہیے
رات بھر پھر آہ و زاری کس لیے
ایک ہی ہو قاتل و منصف جدھر
عدل کی پھر پاسداری کس لیے
بزمِ یاراں سے نکلتے ہیں پریشاں دیکھیۓ
کوئی مجنوں، کوئی عاشق، يا غزلخواں دیکھیۓ
ہوں صفِ عشّاق سے میں اک پشیماں دیکھیۓ
ہے یقیں تجھ کو نہیں چاک گریباں دیکھیۓ
خوب صورت لگ رہا ہے راہِ الفت دور سے
کر رہے قصدِ سفر کتنے ہیں مہماں دیکھیۓ
تم ڈرایا نہ کرو یوں مجھے زندانوں سے
میں ہوں مجنوں مِری نسبت ہے بیابانوں سے
بیج نفرت کے یہاں بوئے گئے ہیں ورنہ
اتنی وحشت نہیں ہوتی تجھے انسانوں سے
اپنا رشتہ ہے بہت دار و رسن سے گہرا
سر کٹانے کی نہ باتیں کرو دیوانوں سے
عین ممکن تھا بے وفا ہو گا
اب خدا جانے کیا سے کیا ہو گا
پہلے حیراں تھا اس طرح کیسے
درمیاں اپنے فاصلہ ہو گا
میں بھی آخر بدل گیا جاناں
با خدا تُو بھی سوچتا ہو گا
دردِ دل کی کبھی تشہیر نہ ہونے دینا
سایۂ غم کو تو زنجیر نہ ہونے دینا
یار! اچھا تو نہیں روز کا آنا جانا
کم کبھی اپنی ہی توقیر نہ ہونے دینا
ہے وطن اپنا جسے سینچا لہو سے سب نے
اس کو یوں غیر کی جاگیر نہ ہونے دینا
ان وفاؤں کا فقط اتنا صلہ دے ہم کو
پیار گر جرم ہے تو آ کے سزا دے ہم کو
تیرے عاشق، تِری قسمت، تِری منزل ہیں ہم
ہیں اگر بیچ کی دیوار گرا دے ہم کو
پیکرِ خاک ہیں جاناں کہ ہیں واقف اس سے
دھول صحرا کی سمجھ کر ہی اڑا دے ہم کو
تعلق دل کا جیسے تیر سے ہے
مرا رشتہ قفس، زنجیر سے ہے
کسے افسوس ترکِ گفتگو پر
مگر شکوہ تری تصویر سے ہے
خوشی سے تُو بسا لےاپنی دنیا
غموں کا واسطہ دلگیر سے ہے