تُو پتلا خاک کا یہ ابتداء ہے
تِری سِدرہ سے آگے انتہا ہے
یہاں کرب و بلا ہے چاروں جانب
کوئی زینب یہاں بھی بے ردا ہے
یہاں ہے اہلِ حق کو جاودانی
وگرنہ نیزے پر تو حق چڑھا ہے
نہیں گر ہاتھ میں دولت جہاں کی
ہوں ادنیٰ آدمی، پر دل بڑا ہے
نہیں دل کو سکوں پہلو میں میرے
تِری عشوہ گری کی یہ سزا ہے
مِری بربادیوں پہ ہنسنے والے
تُو ترسے پیار کو میری دعا ہے
فقط جسموں کی لذت ڈھونڈتے ہیں
محبت کا جنازہ اٹھ گیا ہے
احمد رئیس
No comments:
Post a Comment