Monday, 10 October 2022

دنیا سنوارنی ہے کہ عقبیٰ نہیں پتا

 دنیا سنوارنی ہے کہ عقبیٰ، نہیں پتا

عالم کو جاہلوں سے زیادہ نہیں پتا

اس بار بے حسی کا سماں دیکھنے کا ہے

اس بار تو کسی کو کسی کا نہیں پتا

ہم تو تمہارے نام پہ دے دیں گے جان بھی

کیا ہے تمہارے دل میں، تمہارا نہیں پتا

کچھ دیر کے لیے تھا کسی روشنی کا ساتھ

اب وہ چراغ تھا کہ ستارا نہیں پتا

دعوے ہیں بے اساس، دلیلیں ہیں کھوکھلی

لوگوں کو اعتبار کا اِملا نہیں پتا

ہر شخص آ رہا ہے دوائیں لیے ہوئے

اب کیا کرے گا درد بچارا، نہیں پتا

کتنوں کو اپنی شعر شناسی پہ ناز ہے

اور جون ایلیا سے زیادہ نہیں پتا


شکیل جمالی

No comments:

Post a Comment