ہوا کا جھونکا جو ہے مرا غم شناس اب تک ذرا ذرا سا
مِری طرح اس گلی میں ہے بے حواس اب تک ذرا ذرا سا
سنا سنا کر لطیفے خود کو، میں قہقہے تک تو آ گیا ہوں
تمہارا ٹھکرایا دل ہے لیکن اداس اب تک ذرا ذرا سا
کسی کے ہمراہ تیز بارش میں بھیگ کر شعر کہہ رہا ہوں
مجھے تِرے بعد بھی یہ موسم ہے راس اب تک ذرا ذرا سا