Showing posts with label ذیشان الٰہی. Show all posts
Showing posts with label ذیشان الٰہی. Show all posts

Saturday, 19 March 2022

ہوا کا جھونکا جو ہے مرا غم شناس اب تک ذرا ذرا سا

 ہوا کا جھونکا جو ہے مرا غم شناس اب تک ذرا ذرا سا

مِری طرح اس گلی میں ہے بے حواس اب تک ذرا ذرا سا

سنا سنا کر لطیفے خود کو، میں قہقہے تک تو آ گیا ہوں

تمہارا ٹھکرایا دل ہے لیکن اداس اب تک ذرا ذرا سا

کسی کے ہمراہ تیز بارش میں بھیگ کر شعر کہہ رہا ہوں

مجھے تِرے بعد بھی یہ موسم ہے راس اب تک ذرا ذرا سا

Wednesday, 31 March 2021

رات کی خاموشی کا ماتھا ٹھنکا تھا

 رات کی خاموشی کا ماتھا ٹھنکا تھا

جانے کس کے ہاتھ کا کنگن کھنکا تھا

جھیل نے اپنے سینے پر یوں ٹانک لیا

جیسے میں آوارہ چاند گگن کا تھا

اس کا لان بہاروں سے آباد رہا

سُوکھ گیا جو پیڑ مِرے آنگن کا تھا

Saturday, 27 March 2021

سخن کا اس سے یارا بھی نہیں ہے

 سخن کا اس سے یارا بھی نہیں ہے

سخن کے بِن گزارا بھی نہیں ہے

بیاں شعروں میں ہم کرتے ہیں جتنا

وہ اس درجہ تو پیارا بھی نہیں ہے

بہت شکوے ہیں اس کو زندگی سے

مگر مرنا گوارا بھی نہیں ہے

کہاں بشارت فصل بہار لائی تھی

 کہاں بشارت فصلِ بہار لائی تھی

ہوا تو باغ کی عزت اُتار لائی تھی

گُلوں پہ اُڑتی ہوئی تتلیوں سے یاد آیا

تِری طلب مجھے دریا کے پار لائی تھی

صدا نہ پھر مِرے بے جان جسم سے نکلی

ہوا تو اس کو گُپھا تک پکار لائی تھی

Friday, 26 March 2021

تمہارے خواب کو واروں گا میں عطارد پر

 تمہارے خواب کو واروں گا میں عطارد پر

جب اپنے اشک نتھاروں گا میں عطارد پر

وہاں تھا مارنا تجھ کو جہاں نہ پانی ملے

سو طے کیا تجھے ماروں گا میں عطارد پر

گزر کے آنا پڑے گا زُحَل وغیرہ سے

کبھی جو تجھ کو پکاروں گا میں عطارد پر

سر اٹھایا مذہبی دیوار پر پٹکا ہوا

 سر اٹھایا مذہبی دیوار پر پٹکا ہوا

راہ پر آنے لگا دل راہ سے بھٹکا ہوا

رس کشی کی دعوتیں دیتے رہے تازہ گلاب

جھاڑیوں میں تھا مگر تتلی کا پر اٹکا ہوا

تذکرہ ہونے لگا جب آستیں کے سانپ کا

پاس ہی احساس مجھ کو سرسراہٹ کا ہوا