Friday, 26 March 2021

تمہارے خواب کو واروں گا میں عطارد پر

 تمہارے خواب کو واروں گا میں عطارد پر

جب اپنے اشک نتھاروں گا میں عطارد پر

وہاں تھا مارنا تجھ کو جہاں نہ پانی ملے

سو طے کیا تجھے ماروں گا میں عطارد پر

گزر کے آنا پڑے گا زُحَل وغیرہ سے

کبھی جو تجھ کو پکاروں گا میں عطارد پر

جہاں کی سرد مزاجی سے ہوں اداس بہت

حیات باقی گزاروں گا میں عطارد پر

زمیں پہ قحطِ مضامینِ نو ہوا ذیشان

غزل کی زلف سنواروں گا میں عطارد پر


ذیشان الٰہی

No comments:

Post a Comment