تمہارے خواب کو واروں گا میں عطارد پر
جب اپنے اشک نتھاروں گا میں عطارد پر
وہاں تھا مارنا تجھ کو جہاں نہ پانی ملے
سو طے کیا تجھے ماروں گا میں عطارد پر
گزر کے آنا پڑے گا زُحَل وغیرہ سے
کبھی جو تجھ کو پکاروں گا میں عطارد پر
جہاں کی سرد مزاجی سے ہوں اداس بہت
حیات باقی گزاروں گا میں عطارد پر
زمیں پہ قحطِ مضامینِ نو ہوا ذیشان
غزل کی زلف سنواروں گا میں عطارد پر
ذیشان الٰہی
No comments:
Post a Comment