Showing posts with label احسان جعفری. Show all posts
Showing posts with label احسان جعفری. Show all posts

Saturday, 15 May 2021

تم اچھے مسیحا ہو دوا کیوں نہیں دیتے

 تم اچھے مسیحا ہو، دوا کیوں نہیں دیتے

بے نور جو ہے شمع بجھا کیوں نہیں دیتے

بے نام ہوں بے ننگ ہوں ظاہر تو ہے تم پر

گر ربط نہیں دل سے بھُلا کیوں نہیں دیتے

خوشبو کی طرح پھول کی اٹھوں گا چمن سے

تو پھول کو زلفوں سے گرا کیوں نہیں دیتے

Friday, 14 May 2021

زخموں کو میرے دل کے سجاؤ تو بنے بات

زخموں کو میرے دل کے سجاؤ تو بنے بات

یہ کام ہمیں کر کے دکھاؤ تو بنے بات

کیوں بحر تمنا میں نہیں کوئی بھی ہلچل

طوفان کوئی اس میں جگاؤ تو بنے بات

جینے کے لیے ان کا تصور بھی بہت ہے

بے آس ہمیں جی کے بتاؤ تو بنے بات

Thursday, 13 May 2021

درد دل میں مقیم کس کا ہے

 درد دل میں مقیم کس کا ہے

کام یہ ہے عظیم کس کا ہے

دین و مذہب بجا سہی لیکن

رونے والا یتیم کس کا ہے

خون دیوار کی کتابوں پر

حسن نقش قدیم کس کا ہے

Wednesday, 12 May 2021

زندگی اک آگ ہے وہ آگ جلنا چاہئے

 زندگی اک آگ ہے، وہ آگ جلنا چاہئے

بے حِسی اک برف ہے اس کو پِگھلنا چاہئے

موت بھی ہے زندگی اور موت سے ڈرنا فضول

موت سے آنکھیں مِلا کر مُسکرانا چاہئے

ولولے طوفان و آندھی برق و باراں زلزلے

ان نئے سانچوں میں ہم کو آج ڈھلنا چاہئے

Tuesday, 11 May 2021

جذبات کی شدت سے نکھرتا ہے بیاں اور

 جذبات کی شدت سے نکھرتا ہے بیاں اور

غیروں سے محبت میں سنورتی ہے زباں اور

احساس کی پلکوں میں تِری یاد کا پرتو

غمگین بنا دیتا ہے محفل کا سماں اور

گزرے ہوئے حالات سے بنتی ہے کہانی

گرتے ہوئے تاروں سے منور ہے مکاں اور