تم اچھے مسیحا ہو، دوا کیوں نہیں دیتے
بے نور جو ہے شمع بجھا کیوں نہیں دیتے
بے نام ہوں بے ننگ ہوں ظاہر تو ہے تم پر
گر ربط نہیں دل سے بھُلا کیوں نہیں دیتے
خوشبو کی طرح پھول کی اٹھوں گا چمن سے
تو پھول کو زلفوں سے گرا کیوں نہیں دیتے
تم اچھے مسیحا ہو، دوا کیوں نہیں دیتے
بے نور جو ہے شمع بجھا کیوں نہیں دیتے
بے نام ہوں بے ننگ ہوں ظاہر تو ہے تم پر
گر ربط نہیں دل سے بھُلا کیوں نہیں دیتے
خوشبو کی طرح پھول کی اٹھوں گا چمن سے
تو پھول کو زلفوں سے گرا کیوں نہیں دیتے
زخموں کو میرے دل کے سجاؤ تو بنے بات
یہ کام ہمیں کر کے دکھاؤ تو بنے بات
کیوں بحر تمنا میں نہیں کوئی بھی ہلچل
طوفان کوئی اس میں جگاؤ تو بنے بات
جینے کے لیے ان کا تصور بھی بہت ہے
بے آس ہمیں جی کے بتاؤ تو بنے بات
درد دل میں مقیم کس کا ہے
کام یہ ہے عظیم کس کا ہے
دین و مذہب بجا سہی لیکن
رونے والا یتیم کس کا ہے
خون دیوار کی کتابوں پر
حسن نقش قدیم کس کا ہے
زندگی اک آگ ہے، وہ آگ جلنا چاہئے
بے حِسی اک برف ہے اس کو پِگھلنا چاہئے
موت بھی ہے زندگی اور موت سے ڈرنا فضول
موت سے آنکھیں مِلا کر مُسکرانا چاہئے
ولولے طوفان و آندھی برق و باراں زلزلے
ان نئے سانچوں میں ہم کو آج ڈھلنا چاہئے
جذبات کی شدت سے نکھرتا ہے بیاں اور
غیروں سے محبت میں سنورتی ہے زباں اور
احساس کی پلکوں میں تِری یاد کا پرتو
غمگین بنا دیتا ہے محفل کا سماں اور
گزرے ہوئے حالات سے بنتی ہے کہانی
گرتے ہوئے تاروں سے منور ہے مکاں اور