Tuesday, 11 May 2021

جذبات کی شدت سے نکھرتا ہے بیاں اور

 جذبات کی شدت سے نکھرتا ہے بیاں اور

غیروں سے محبت میں سنورتی ہے زباں اور

احساس کی پلکوں میں تِری یاد کا پرتو

غمگین بنا دیتا ہے محفل کا سماں اور

گزرے ہوئے حالات سے بنتی ہے کہانی

گرتے ہوئے تاروں سے منور ہے مکاں اور

مجھ کو نہ بتا زیست کے امکان بہت ہیں

مٹی میں نمی ہو تو ابھرتے ہیں نشاں اور

آنگن ہی میں خوشبو کو مقید نہ کرو تم

پرواز سے مل جائیں گے انساں کو جہاں اور


احسان جعفری

No comments:

Post a Comment