Monday, 10 May 2021

پوچھتا کون وفا سے اس کی

 پوچھتا کون وفا سے اس کی

مر گئے لوگ بلا سے اس کی

دیکھو کس طور سنور جاتا ہے

مجھ سا صحرا بھی گھٹا سے اس کی

یار! ہم خاک بہ سر، خاک نشیں

اس فضا میں ہیں ہوا سے اس کی

اب کوئی صبح جگائے گی کیا

ہم کو اٹھنا ہے صدا سے اس کی

لوٹ جائے گی بہار اس کے ساتھ

سبز موسم ہے فضا سے اس کی

ذکر کرتے ہیں قضا سے اس کا

ہم جو جیتے ہیں دوا سے اس کی

زخم کے پھول کھلے ہیں تن میں

لہلہاتا ہوں ہوا سے اس کی


دنیش نائیڈو

No comments:

Post a Comment