Showing posts with label مقبول حسین. Show all posts
Showing posts with label مقبول حسین. Show all posts

Wednesday, 19 July 2023

جانے وجود ہست میں کیسی دھمال ہے

 جانے وجودِ ہست میں کیسی دھمال ہے

یہ اوجِ آسمان بھی یا رب! کمال ہے

کچھ دیر اور گُھومنا ہے جسدِ خاک نے

ان ساعتوں میں اب قدم اُٹھنا مُحال ہے

اب کے عروجِ وقت میں ڈُوبے گا کیا نصیب

ٹُوٹے گا وہ طلسم جو قُفلِ زوال ہے

Thursday, 1 June 2023

خواب دیدۂ مہتاب میں رکھا ہوا ہے

 خواب دیدۂ مہ تاب میں رکھا ہوا ہے

اک جہاں ہے جو گرداب میں رکھا ہوا ہے

اس کے جسم کی ہر قوس نشیلی سی ہے

اک سبھاؤ ہے، مے ناب میں رکھا ہوا ہے

چاندنی تو اتر آئی ہے ان کے رُخ پر

چاند کو میں نے آداب میں رکھا ہوا ہے

Tuesday, 30 May 2023

اب تو ساری عمر گزرے گی تمہارے پیار میں

 اب تو ساری عمر گزرے گی تمہارے پیار میں

یوں نہیں کہ صرف میرا خواب ارزانی میں ہے

آسماں کا چاند بھی تالاب کے پانی میں ہے

ہر طرف مدہوش سی پھیلی ہوئی ہے اک فضا

کون سا جادو نہ جانے رات کی رانی میں ہے

میرے دل میں گو محبت کے سوا کچھ بھی نہیں

Monday, 1 May 2023

سانس لے سکتا نہیں ہوں میں ترے سنسار میں

 سانس لے سکتا نہیں ہوں میں تِرے سنسار میں

تو نے مجھ کو چُن دیا ہے کون سی دیوار میں

ان میں رہ کے مجھ کو تنہائی کا دکھ ہوتا نہیں

بس یہی خوبی ہے میرے یار ان اغیار میں

کون کہتا ہے کہ ہاتھوں سے کریدو راکھ کو

کوئی چنگاری بھی ہو سکتی ہے اس انبار میں

Sunday, 1 May 2022

یقیں ایسا کہ جو گماں میں نہیں

یقیں ایسا کہ جو گماں میں نہیں

تیرے جیسا کوئی جہاں میں نہیں

یقیناً داستاں ادھوری سی ہے

مِرا ہی ذکر داستاں میں نہیں

تیری آنکھیں بھی بجھ گئی ہیں کیا

ستارہ ایک آسماں میں نہیں

Friday, 23 April 2021

اپنے کاندھے پہ جو ہر بوجھ اٹھا سکتا ہے

 اپنے کاندھے پہ جو ہر بوجھ اُٹھا سکتا ہے

وہ زمیں زاد فلک اپنا بنا سکتا ہے

تیری قُربت میں یہ پردیس سے آیا ہوا شخص

چھوڑ کر تجھ کو کہیں اور بھی جا سکتا ہے

جس کی قسمت میں ہو ساحل پہ پہنچنا اس کو

ایک تنکے کا سہارا بھی بچا سکتا ہے