جانے وجودِ ہست میں کیسی دھمال ہے
یہ اوجِ آسمان بھی یا رب! کمال ہے
کچھ دیر اور گُھومنا ہے جسدِ خاک نے
ان ساعتوں میں اب قدم اُٹھنا مُحال ہے
اب کے عروجِ وقت میں ڈُوبے گا کیا نصیب
ٹُوٹے گا وہ طلسم جو قُفلِ زوال ہے
جانے وجودِ ہست میں کیسی دھمال ہے
یہ اوجِ آسمان بھی یا رب! کمال ہے
کچھ دیر اور گُھومنا ہے جسدِ خاک نے
ان ساعتوں میں اب قدم اُٹھنا مُحال ہے
اب کے عروجِ وقت میں ڈُوبے گا کیا نصیب
ٹُوٹے گا وہ طلسم جو قُفلِ زوال ہے
خواب دیدۂ مہ تاب میں رکھا ہوا ہے
اک جہاں ہے جو گرداب میں رکھا ہوا ہے
اس کے جسم کی ہر قوس نشیلی سی ہے
اک سبھاؤ ہے، مے ناب میں رکھا ہوا ہے
چاندنی تو اتر آئی ہے ان کے رُخ پر
چاند کو میں نے آداب میں رکھا ہوا ہے
اب تو ساری عمر گزرے گی تمہارے پیار میں
یوں نہیں کہ صرف میرا خواب ارزانی میں ہے
آسماں کا چاند بھی تالاب کے پانی میں ہے
ہر طرف مدہوش سی پھیلی ہوئی ہے اک فضا
کون سا جادو نہ جانے رات کی رانی میں ہے
میرے دل میں گو محبت کے سوا کچھ بھی نہیں
سانس لے سکتا نہیں ہوں میں تِرے سنسار میں
تو نے مجھ کو چُن دیا ہے کون سی دیوار میں
ان میں رہ کے مجھ کو تنہائی کا دکھ ہوتا نہیں
بس یہی خوبی ہے میرے یار ان اغیار میں
کون کہتا ہے کہ ہاتھوں سے کریدو راکھ کو
کوئی چنگاری بھی ہو سکتی ہے اس انبار میں
یقیں ایسا کہ جو گماں میں نہیں
تیرے جیسا کوئی جہاں میں نہیں
یقیناً داستاں ادھوری سی ہے
مِرا ہی ذکر داستاں میں نہیں
تیری آنکھیں بھی بجھ گئی ہیں کیا
ستارہ ایک آسماں میں نہیں
اپنے کاندھے پہ جو ہر بوجھ اُٹھا سکتا ہے
وہ زمیں زاد فلک اپنا بنا سکتا ہے
تیری قُربت میں یہ پردیس سے آیا ہوا شخص
چھوڑ کر تجھ کو کہیں اور بھی جا سکتا ہے
جس کی قسمت میں ہو ساحل پہ پہنچنا اس کو
ایک تنکے کا سہارا بھی بچا سکتا ہے