سانس لے سکتا نہیں ہوں میں تِرے سنسار میں
تو نے مجھ کو چُن دیا ہے کون سی دیوار میں
ان میں رہ کے مجھ کو تنہائی کا دکھ ہوتا نہیں
بس یہی خوبی ہے میرے یار ان اغیار میں
کون کہتا ہے کہ ہاتھوں سے کریدو راکھ کو
کوئی چنگاری بھی ہو سکتی ہے اس انبار میں
تو کبھی آیا تو کر اپنی تسلی کے لیے
تیری یادوں کا خزانہ ہے دلِ بیمار میں
اب تو پاؤں میں بھی الٹا گھوم سکتی ہے زمیں
ایسا بل آیا ہوا ہے وقت کی رفتار میں
باندھ کر بس رکھ لیا ہے اپنی سانسوں سے تجھے
مقبول حسین سید
No comments:
Post a Comment