دل میں اک ٹیس اٹھی آنکھ میں آنسو جاگے
شام ہوتے ہی تِری یاد کے جگنو جاگے
اور ہو جائے گی باغوں کی فضا عطر افشاں
تو اگر آئے تو صحراؤں میں خوشبو جاگے
کھل اگر جائیں سیہ مست گھنیرے گیسو
سارے ماحول میں بنگال کا جادو جاگے
میری تنہائی میں شہنائی ہوئی ہے شامل
جب کہیں دور کسی پاؤں میں گھنگھرو جاگے
لوٹ کر نیند مِری چین سے سونے والے
کاش وہ آئے گھڑی میری طرح تو جاگے
ہو گیا بخت ثریا مِری قسمت پہ نثار
میرے شانوں پہ تِرے سرمئی گیسو جاگے
صبح دم باغ میں کھلتی ہے کلی یوں طالب
اک حسیں خواب سے جیسے کوئی ماہ رو جاگے
طالب شملوی
No comments:
Post a Comment