دیا بھی جلے روشنی بھی نہ ہو
اندھیروں سے یوں دوستی بھی نہ ہو
کہ شرمندگی ملنے والوں کو ہو
ملاقات اتنی کھری بھی نہ ہو
ادا مہربانوں کی بے مثل ہے
کریں قتل شرمندگی بھی نہ ہو
دیا بھی جلے روشنی بھی نہ ہو
اندھیروں سے یوں دوستی بھی نہ ہو
کہ شرمندگی ملنے والوں کو ہو
ملاقات اتنی کھری بھی نہ ہو
ادا مہربانوں کی بے مثل ہے
کریں قتل شرمندگی بھی نہ ہو
ہر طرف نالہ و فریاد کے منظر دیکھیں
تجھ کو دیکھیں کہ تِرا شہر ستمگر دیکھیں
دور سے وہ نظر آئے گا بس اک سائے سا
اس کو دیکھیں تو ذرا پاس بلا کر دیکھیں
چاند سورج نہ ستارے ہیں ہمارے بس میں
ایک مٹی کا دِیا ہے، سو جلا کر دیکھیں
ہماری ذات میں بستے سبھی ہیں
ہم اچھے ہیں تو پھر اچھے سبھی ہیں
یقیں کیسے کریں وعدے پہ تیرے
یہی وعدہ ہے جو کرتے سبھی ہیں
دکھائی کیوں نہیں دیتا کسی کو
خدا کی کھوج میں نکلے سبھی ہیں
عجب اشکوں کی بارش ہو گئی ہے
دلوں کی گرد ساری دھو گئی ہے
سنائی دے رہی ہیں سسکیاں اب
سہانی راگنی چپ ہو گئی ہے
ڈرے جاتے ہیں ہم کو دیکھ کر سب
ہماری شکل ہم سے کھو گئی ہے
ابھرتی ڈوبتی سانسوں کا سلسلہ کیوں ہے
کبھی یہ سوچ کہ جو کچھ ہُوا، ہُوا کیوں ہے
بنے ہیں ایک ہی مٹی سے ہم سبھی، لیکن
ہماری سوچ میں اس درجہ فاصلہ کیوں ہے
لگا رکھا ہے یہ کس نے کڑی کو اندر سے
اجاڑ گھر کا دریچہ ڈرا ڈرا کیوں ہے
دلوں کے زخم بھرتے کیوں نہیں ہیں
ہم اس پر غور کرتے کیوں نہیں ہیں
دغا دے کر نکل جاتی ہے آگے
خوشی سے لوگ ڈرتے کیوں نہیں ہیں
تجارت کیوں ادھوری ہے ہماری
ہمارے ناپ بھرتے کیوں نہیں ہیں