Showing posts with label عبید حارث. Show all posts
Showing posts with label عبید حارث. Show all posts

Saturday, 6 November 2021

دیا بھی جلے روشنی بھی نہ ہو

 دیا بھی جلے روشنی بھی نہ ہو

اندھیروں سے یوں دوستی بھی نہ ہو

کہ شرمندگی ملنے والوں کو ہو 

ملاقات اتنی کھری بھی نہ ہو

ادا مہربانوں کی بے مثل ہے

کریں قتل شرمندگی بھی نہ ہو

Friday, 29 October 2021

ہر طرف نالہ و فریاد کے منظر دیکھیں

 ہر طرف نالہ و فریاد کے منظر دیکھیں

تجھ کو دیکھیں کہ تِرا شہر ستمگر دیکھیں

دور سے وہ نظر آئے گا بس اک سائے سا

اس کو دیکھیں تو ذرا پاس بلا کر دیکھیں

چاند سورج نہ ستارے ہیں ہمارے بس میں

ایک مٹی کا دِیا ہے، سو جلا کر دیکھیں

Thursday, 21 October 2021

ہماری ذات میں بستے سبھی ہیں

 ہماری ذات میں بستے سبھی ہیں

ہم اچھے ہیں تو پھر اچھے سبھی ہیں

یقیں کیسے کریں وعدے پہ تیرے

یہی وعدہ ہے جو کرتے سبھی ہیں

دکھائی کیوں نہیں دیتا کسی کو

خدا کی کھوج میں نکلے سبھی ہیں

Wednesday, 20 October 2021

عجب اشکوں کی بارش ہو گئی ہے

 عجب اشکوں کی بارش ہو گئی ہے

دلوں کی گرد ساری دھو گئی ہے

سنائی دے رہی ہیں سسکیاں اب

سہانی راگنی چپ ہو گئی ہے

ڈرے جاتے ہیں ہم کو دیکھ کر سب

ہماری شکل ہم سے کھو گئی ہے

Tuesday, 19 October 2021

ابھرتی ڈوبتی سانسوں کا سلسلہ کیوں ہے

 ابھرتی ڈوبتی سانسوں کا سلسلہ کیوں ہے

کبھی یہ سوچ کہ جو کچھ ہُوا، ہُوا کیوں ہے

بنے ہیں ایک ہی مٹی سے ہم سبھی، لیکن

ہماری سوچ میں اس درجہ فاصلہ کیوں ہے

لگا رکھا ہے یہ کس نے کڑی کو اندر سے

اجاڑ گھر کا دریچہ ڈرا ڈرا کیوں ہے

Sunday, 9 May 2021

دلوں کے زخم بھرتے کیوں نہیں ہیں

 دلوں کے زخم بھرتے کیوں نہیں ہیں

ہم اس پر غور کرتے کیوں نہیں ہیں

دغا دے کر نکل جاتی ہے آگے

خوشی سے لوگ ڈرتے کیوں نہیں ہیں

تجارت کیوں ادھوری ہے ہماری

ہمارے ناپ بھرتے کیوں نہیں ہیں