کوکب سب افلاک میں گُم
صوفی رُوحِ پاک میں گم
کھنڈر ہوئی ہر اونچی حویلی
پھر بھی اونچی ناک میں گم
حُسن ہے ساتھ حجابوں ہی کے
ہر منظرِ بے باک میں گم
کوکب سب افلاک میں گُم
صوفی رُوحِ پاک میں گم
کھنڈر ہوئی ہر اونچی حویلی
پھر بھی اونچی ناک میں گم
حُسن ہے ساتھ حجابوں ہی کے
ہر منظرِ بے باک میں گم
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ارض و سما میں خدا ہی دیکھا
ہر جا جلوہ تیرا ہی دیکھا
شاہانِ عالی کو بھی اکثر
تیرے در پر گدا ہی دیکھا
تیری کتابِ لاریب میں بھی
نورِ ہدایت رچا ہی دیکھا
یاں ہنر ور بھی خوب ملتے ہیں
خار سے گل کے چاک سلتے ہیں
ہم تِرے ہمرکاب ہو نہ سکے
کارواں کے غبار ملتے ہیں
یوں تو تنہائیاں مقدر ہیں
بھیڑ اتنی کے شانے چھِلتے ہیں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
اے چارہ گرِ کُل! تُو ہی مقصود ثنا ہے
تُو مالکِ ہستی ہے، مقدر کا لکھا ہے
تیرے ہی اشارے سے یہ طُوفان ہوا ہے
کیا بحر ہے کیا باد سبھی تیرے نشاں ہیں
تجھ جیسے حمید اور حفیظ کہاں ہیں
راہوں میں ہماری ہے تِرا نور مددگار
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
خالقِ کُل نے بھی کی ثنائے نبیﷺ
رحمتِ دو جہاں بن کے آئے نبیﷺ
آپﷺ کی زیست قرآن کی تفسیر ہے
معجزے کیوں نہ ہم کو دکھائے نبیﷺ
اپنی اپنی جگہ سب نے تعظیم دی
تھے شجر اور حجر آشنائے نبیﷺ