حضرتِ دل جناب کی خاطر
عاقبت ہے عذاب کی خاطر
ترکِ لذّات اور میں، توبہ
ایک روزِ حساب کی خاطر
حضرتِ شیخ آپ بھی پی لیں
اک ذرا سی ثواب کی خاطر
نوجوانی وجود کا ماحصل
زندگی ہے شباب کی خاطر
ابنِ آدم ہے ہمکنارِ گناہ
ہو رہی ہے عذاب کی خاطر
طبعِ جاناں کی نازکی توبہ
اس کی خاطر حباب کی خاطر
وہ ہوں خنجر بکف، جھکا دوں میں سر
یوں ہو ان کے عتاب کی خاطر
سعئ پیہم، یہ جستجو، یہ تالش
زندگی کے سراب کی خاطر
ایس اے مہدی علیگ
No comments:
Post a Comment