کرنی ہو گر تو کیجیو جام و سبو کی بات
مت لائیو زباں پہ مگر آرزو کی بات
مقدور بھی یہی ہے کہ پردے پڑے رہیں
اپنی کہاں بساط کریں رو بہ رو کی بات
دیکھیں گے پھر سے بزم میں جلوہ نما اسے
سنتے رہیں گے بیٹھ کے اس ماہ رو کی بات
ائے شوخئ نگاہِ تمنّا سنبھل سنبھل
ظاہر نہ ہو کہیں دلِ پُر آرزو کی بات
دیکھا ہے سب نے چاکِ گریباں سے چاکِ دل
پر کی نہیں کسی نے کبھی بھی رفو کی بات
ائے دل وہ بزمِ شوق میں آتا نہ کس طرح
کچھ جستجو کی بات تھی کچھ آبرو کی بات
لے سر جھکا رہے ہیں فرازِ جنوں میں ہم
خنجر اٹھا کے ختم بھی کر دے گلو کی بات
علی فراز رضوی
No comments:
Post a Comment