Wednesday, 16 September 2026

کبھی جالی کبھی گنبد کبھی مینار کے پاس

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


کبھی جالی کبھی گُنبد کبھی مینار کے پاس

بیٹھ کر نعتیں لکھوں روضۂ سرکارؐ کے پاس

کہکشاں یا مہ و خُورشید ہوں آتے ہیں سبھی

نُور لینے کے لیے مرکزِ انوار کے پاس

با ادب حُور و ملک جِن و بشر شاہ و گدا

ہاتھ پھیلائے کھڑے ہیں درِ سرکارؐ کے پاس

آپؐ سخیوں کے سخی، آپؐ ہی نبیوں کے نبی

جائیں کیوں چھوڑ کے در آپؐ کا اغیار کے پاس

ناز کس پر کروں اک آپؐ کی نسبت کے سوا

اور کیا ہے مِرے سرکارﷺ گُنہگار کے پاس

کُل خزانوں کا انہیں رب نے بنایا مالک

کیا کمی ہے کوئی بتلائے تو سرکارؐ کے پاس

اپنے دامن میں جسے آقاﷺ چھُپا لیں ناظم

کیسے جائے گا وہ محشر میں بھلا نار کے پاس


 ناظم بریلوی

No comments:

Post a Comment