Sunday, 6 September 2026

مہمان دل میں پھر کوئی خانہ خراب ہے

 مہمان دل میں پھر کوئی خانہ خراب ہے

آنکھیں شراب و جام ہیں چہرہ کتاب ہے

تعریف ہو گئی تِری،۔ تُو کامیاب ہے

میں کیا کروں کہ تُو بھی مِرا انتخاب ہے

وہ قہر ہے، ثواب ہے، کوئی عذاب ہے

لیکن جناب! تیرِ نظر کامیاب ہے

میں نے کہا جواب نہیں یہ سوال کا

اس نے کہا کہ یہ تِرے خط کا جواب ہے

میں نے کہا کہ جل اٹھا سارا مِرا بدن

اس نے کہا کہ برق نہیں یہ سحاب ہے

آنکھوں سے کیوں شرارے اچانک نکل پڑے

چہرہ مگر حضور کا زیرِ نقاب ہے

مکھڑے کو اس کے دیکھ کے ہوتا ہے یہ گماں

جیسے کھلا ہوا کوئی تازہ گلاب ہے

وہ میرے دل میں میری نظر میں ہیں جب مقیم

حیران ہوں کہ کیوں انہیں مجھ سے حجاب ہے

وہ سامنے ہیں، جلنے لگا ہے بدن تمام

کیسے کہوں نظیر نگاہوں کو تاب ہے


نظیر رامپوری

سید نظیر علی

No comments:

Post a Comment