عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
جب گردشِ کونین کا عرفان ملے گا
ہر دائرہ حیدرؑ کا ثنا خوان ملے گا
یہ سینۂ حیدرؑ ہے کہ جُزدانِ ازل ہے
انجیل سے پہلے یہاں قُرآن ملے گا
مُڑ شہرِ نجف کی طرف اے راہئ فردوس
اس موڑ سے رستہ تجھے آسان ملے گا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
جب گردشِ کونین کا عرفان ملے گا
ہر دائرہ حیدرؑ کا ثنا خوان ملے گا
یہ سینۂ حیدرؑ ہے کہ جُزدانِ ازل ہے
انجیل سے پہلے یہاں قُرآن ملے گا
مُڑ شہرِ نجف کی طرف اے راہئ فردوس
اس موڑ سے رستہ تجھے آسان ملے گا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
خطۂ خاک پہ افلاک بچھائے گئے ہیں
پھر مدینے کے گلی کُوچے بنائے گئے ہیں
پاؤں بھی دھیرے سے دھر، سانس بھی آہستہ کھینچ
حاضری کے یہی آداب سکھائے گئے ہیں
ہر قدم سر یہاں سجدے میں جُھکاتا ہوا چل
اس گلی سے مِرے سرکارؐ بھی آئے گئے ہیں
کہیں مٹی، کہیں تصویر پڑی ہے میری
خواب کے طشت میں تعبیر پڑی ہے میری
ہانپتا کانپتا آتا ہوں جو میں اپنی طرف
پسِ عجلت، کوئی تاخیر پڑی ہے میری
روشنی بن کے میں روزن سے نکل بھی آیا
قید میں آج بھی زنجیر پڑی ہے میری
عارفانہ کلام حمد نعت مقبت
ٹکڑے ہو ہو کے سرِ دشت بکھرنے کے لیے
ہم تو آئے ہیں یہاں آپ پہ مرنے کے لیے
لیجیۓ ہم سُمِ اسپاں سے کچل جاتے ہیں
آپ زحمت نہ کریں دفن بھی کرنے کے لیے
کھینچ لائی ہے یہاں، غازۂ خونیں کی کشش
آ گئے ہم بھی یہاں بننے سنورنے کے لیے
عصر کے وقت رُلا کر مجھے لے جاتا ہے
دشت! مسجد سے اٹھا کر مجھے لے جاتا ہے
اک محلّے کا بھکاری ہے مقدر میرا
ہاتھ میں کاسہ تھما کر مجھے لے جاتا ہے
اپنی خواہش سے نہیں جاتا خرابے کی طرف
عشق باتوں میں لگا کر مجھے لے جاتا ہے
کوچہ ہے یادِ یار کا، پِھرتے ہیں دل بدست ہم
سجدہ گزارِ رہگزر، نشے میں اپنے مست ہم
غافل ہیں التفات سے، بے پروا اپنی ذات سے
کیسے وجود آشنا، کیسے خدا پرست ہم؟
اک دو قدم پہ یار ہے، بیڑہ ہمارا پار ہے
آنے تو دو نشیبِ جاں، بھر لیں گے ایک جست ہم
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
کہیں خلا میں ہے کاغذ، قلم زمیں پہ نہیں
میں نعت لکھتے ہوئے کم سے کم زمیں پہ نہیں
خرامِ ناز، کہ رستے پہ بچھ گئے ہیں فقیر
ہمارے سینے پہ رکھیے قدم زمیں پہ نہیں
خوشی کے مارے زمیں پر قدم نہیں پڑتے
یقیں ہوا کہ دیارِ حرم زمیں پہ نہیں
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
اک رات رجب کی لکھّی ہے، اک صبح ربیع الاوّل کی
لو میں نے مضامیں جوڑ لیے، لو میں نے نعت مکمل کی
موجود نہ تھے، تقدیر تھے سب، تصویر نہ تھے تحریر تھے سب
پھر نور نے نور کے پرتَو سے صناعیِ چہرۂ اوّلﷺ کی
دیدار کی ساعت کو رکھا آزاد ہر اک پیمانے سے
پرکارِ ابد کے مرکز نے خود گردشِ وقت معطّل کی
بے دل و بے اماں پڑے ہوئے ہیں
ہم کہیں خونچکاں پڑے ہوئے ہیں
ہم ہیں مردِ نبرد، افگنِ عشق
ہم ہی کھا کر سِناں پڑے ہوئے ہیں
کیا ضعیفی کو قتل گاہ سے راہ
چار سُو نوجواں پڑے ہوئے ہیں
عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ
بہ فیضِ گردِ صحرا خود کو چمکاتا ہوا آتا
رجَز پڑھتا ہوا،🗡شمشیر لہراتا ہوا آتا
گرانْباری کسی حلقے کی خم رکھتی مِری گردن
کوئی بیڑی کوئی زنجیر چھنکاتا ہوا آتا
ندامت دیر سے آنے کی آنکھوں سے چھلک پڑتی
درورنِ گریۂ بے باک شرماتا ہوا آتا
تصویر بنی ہے پانی کی، یا آگ بھری ہے مٹی میں
یہ دشت ہے مجنوں صاحب کا، شوریدہ سری ہے مٹی میں
کُرلاتی ہوا کا غلبہ ہے،۔ کاٹھی ہے کہ بکھرا ملبہ ہے
چرکوں سے بھڑک ہے اگنی میں، خونناب تِری ہے مٹی میں
سب ہستی بستی بھول گیا، چل چل کے سانس بھی پھول گیا
کوئی افسوں ہے ویرانے میں، کوئی جادوگری ہے مٹی میں
اک نئے شہر کی تصویر بناتے جاویں
رنگ بھرنے کے لیے خون بہاتے جاویں
اولِ وقت ہے، پڑھ لیں کسی مسجد میں نماز
واپسی میں کسی بت خانے کو ڈھاتے جاویں
شہر کو شہرِخموشاں سے ملانا ہے ہمیں
جو بھی دیوار نظر آئے گراتے جاویں
دل کی دنیا جھنجوڑ دی میں نے
میری گلک تھی، پھوڑ دی میں نے
کل پیالہ اٹھا کے پھینکا تھا
آج بوتل بھی توڑ دی میں نے
زندگی روز آ لپٹتی تھی
اس کی گردن مروڑ دی میں نے
مجھے مجھ سے ملاتی جا رہی ہے
فقیری راس آتی جا رہی ہے
یہ مٹی میرے خال و خد چُرا کر
تِرا چہرہ بناتی جا رہی ہے
یہ کس کی یاد ہے جو میرے دل میں
مصلّے سے بچھاتی جا رہی ہے
کوئی فقیہہ، نہ مرشد، نہ پِیر ہیں جانی
کہ ہم تو دامِ ہوس کے اسیر ہیں جانی
رُکے ہیں اک ذرا دہلیز چومنے کے لیے
چلے ہی جائیں گے ہم، راہگیر ہیں جانی
ترنگِ عشق سے خالی نہیں ہے جا کوئی
یہاں بِھٹائی، وہاں پر کبیر ہیں جانی
زخم سب اس کو دکھا کر رقص کر
ایڑیوں تک خوں بہا کر رقص کر
جامۂ خاکی پہ مشتِ خاک ڈال
خود کو مٹی میں ملا کر رقص کر
اس عبادت کی نہیں کوئی قضا
سر کو سجدے سے اٹھا کر رقص کر
چشمِ وحشت! یہ تِری گریہ گزاری کم ہے
غم زیادہ ہے، مگر سینہ فگاری کم ہے
اتنا چلائیں کہ قاتل کی رگیں پھٹ جائیں
رونے والو! ابھی آواز ہماری کم ہے
اس لیے بڑھتی چلی جاتی ہے لاشوں کی قطار
میری فرصت کے لیے زخم شماری کم ہے
عکس کا حصہ طبیعت کی پریشانی نہ تھی
اس نے دیکھی تھی مِری تصویر، پہچانی نہ تھی
ڈھونڈ لیتا تھا میں اپنی ہر خرابی کا جواز
جیسا میں بدنام تھا، ویسی پشیمانی نہ تھی
اپنے بستر پر نہیں ہوتے ہوئے ہوتا تھا میں
اتنی ویرانی تھی کمرے میں کہ ویرانی نہ تھی