Showing posts with label عارف امام. Show all posts
Showing posts with label عارف امام. Show all posts

Sunday, 14 July 2024

جب گردش کونین کا عرفان ملے گا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


جب گردشِ کونین کا عرفان ملے گا

ہر دائرہ حیدرؑ کا ثنا خوان ملے گا

یہ سینۂ حیدرؑ ہے کہ جُزدانِ ازل ہے

انجیل سے پہلے یہاں قُرآن ملے گا

مُڑ شہرِ نجف کی طرف اے راہئ فردوس

اس موڑ سے رستہ تجھے آسان ملے گا

Wednesday, 3 January 2024

خطۂ خاک پہ افلاک بچھائے گئے ہیں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


خطۂ خاک پہ افلاک بچھائے گئے ہیں

پھر مدینے کے گلی کُوچے بنائے گئے ہیں

پاؤں بھی دھیرے سے دھر، سانس بھی آہستہ کھینچ

حاضری کے یہی آداب سکھائے گئے ہیں

ہر قدم سر یہاں سجدے میں جُھکاتا ہوا چل

اس گلی سے مِرے سرکارؐ بھی آئے گئے ہیں

Friday, 29 September 2023

کہیں مٹی کہیں تصویر پڑی ہے میری

کہیں مٹی، کہیں تصویر پڑی ہے میری

خواب کے طشت میں تعبیر پڑی ہے میری

ہانپتا کانپتا آتا ہوں جو میں اپنی طرف

پسِ عجلت، کوئی تاخیر پڑی ہے میری

روشنی بن کے میں روزن سے نکل بھی آیا

قید میں آج بھی زنجیر پڑی ہے میری

Thursday, 18 May 2023

ٹکڑے ہو ہو کے سر دشت بکھرنے کے لیے

 عارفانہ کلام حمد نعت مقبت


ٹکڑے ہو ہو کے سرِ دشت بکھرنے کے لیے

ہم تو آئے ہیں یہاں آپ پہ مرنے کے لیے

لیجیۓ ہم سُمِ اسپاں سے کچل جاتے ہیں

آپ زحمت نہ کریں دفن بھی کرنے کے لیے

کھینچ لائی ہے یہاں، غازۂ خونیں کی کشش

آ گئے ہم بھی یہاں بننے سنورنے کے لیے

Sunday, 11 December 2022

عصر کے وقت رلا کر مجھے لے جاتا ہے

 عصر کے وقت رُلا کر مجھے لے جاتا ہے

دشت! مسجد سے اٹھا کر مجھے لے جاتا ہے

اک محلّے کا بھکاری ہے مقدر میرا

ہاتھ میں کاسہ تھما کر مجھے لے جاتا ہے

اپنی خواہش سے نہیں جاتا خرابے کی طرف

عشق باتوں میں لگا کر مجھے لے جاتا ہے

Wednesday, 16 November 2022

کوچہ ہے یاد یار کا پِھرتے ہیں دل بدست ہم

 کوچہ ہے یادِ یار کا، پِھرتے ہیں دل بدست ہم

سجدہ گزارِ رہگزر، نشے میں اپنے مست ہم

غافل ہیں التفات سے، بے پروا اپنی ذات سے

کیسے وجود آشنا، کیسے خدا پرست ہم؟

اک دو قدم پہ یار ہے، بیڑہ ہمارا پار ہے

آنے تو دو نشیبِ جاں، بھر لیں گے ایک جست ہم

Friday, 4 November 2022

میں نعت لکھتے ہوئے کم سے کم زمیں پہ نہیں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


کہیں خلا میں ہے کاغذ، قلم زمیں پہ نہیں

میں نعت لکھتے ہوئے کم سے کم زمیں پہ نہیں

خرامِ ناز، کہ رستے پہ بچھ گئے ہیں فقیر

ہمارے سینے پہ رکھیے قدم زمیں پہ نہیں

خوشی کے مارے زمیں پر قدم نہیں پڑتے

یقیں ہوا کہ دیارِ حرم زمیں پہ نہیں

Tuesday, 30 August 2022

اک رات رجب کی لکھی ہے اک صبح ربیع الاول کی

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


اک رات رجب کی لکھّی ہے، اک صبح ربیع الاوّل کی

لو میں نے مضامیں جوڑ لیے، لو میں نے نعت مکمل کی

موجود نہ تھے، تقدیر تھے سب، تصویر نہ تھے تحریر تھے سب

پھر نور نے نور کے پرتَو سے صناعیِ چہرۂ اوّلﷺ کی

دیدار کی ساعت کو رکھا آزاد ہر اک پیمانے سے

پرکارِ ابد کے مرکز نے خود گردشِ وقت معطّل کی

Saturday, 13 August 2022

بے دل و بے اماں پڑے ہوئے ہیں

 بے دل و بے اماں پڑے ہوئے ہیں

ہم کہیں خونچکاں پڑے ہوئے ہیں

ہم ہیں مردِ نبرد، افگنِ عشق

ہم ہی کھا کر سِناں پڑے ہوئے ہیں

کیا ضعیفی کو قتل گاہ سے راہ

چار سُو نوجواں پڑے ہوئے ہیں

Friday, 12 August 2022

بہ فیض گرد صحرا خود کو چمکاتا ہوا آتا

عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ


 بہ فیضِ گردِ صحرا خود کو چمکاتا ہوا آتا

رجَز پڑھتا ہوا،🗡شمشیر لہراتا ہوا آتا

گرانْباری کسی حلقے کی خم رکھتی مِری گردن

کوئی بیڑی کوئی زنجیر چھنکاتا ہوا آتا

ندامت دیر سے آنے کی آنکھوں سے چھلک پڑتی

درورنِ گریۂ بے باک شرماتا ہوا آتا

Saturday, 23 April 2022

تصویر بنی ہے پانی کی یا آگ بھری ہے مٹی میں

 تصویر بنی ہے پانی کی، یا آگ بھری ہے مٹی میں

یہ دشت ہے مجنوں صاحب کا، شوریدہ سری ہے مٹی میں

کُرلاتی ہوا کا غلبہ ہے،۔ کاٹھی ہے کہ بکھرا ملبہ ہے

چرکوں سے بھڑک ہے اگنی میں، خونناب تِری ہے مٹی میں

سب ہستی بستی بھول گیا، چل چل کے سانس بھی پھول گیا

کوئی افسوں ہے ویرانے میں، کوئی جادوگری ہے مٹی میں

Monday, 14 February 2022

اک نئے شہر کی تصویر بناتے جاویں

 اک نئے شہر کی تصویر بناتے جاویں

رنگ بھرنے کے لیے خون بہاتے جاویں​

اولِ وقت ہے، پڑھ لیں کسی مسجد میں نماز

واپسی میں کسی بت خانے کو ڈھاتے جاویں

شہر کو شہرِخموشاں سے ملانا ہے ہمیں

جو بھی دیوار نظر آئے گراتے جاویں

Saturday, 9 October 2021

دل کی دنیا جھنجوڑ دی میں نے

 دل کی دنیا جھنجوڑ دی میں نے

میری گلک تھی، پھوڑ دی میں نے

کل پیالہ اٹھا کے پھینکا تھا

آج بوتل بھی توڑ دی میں نے

زندگی روز آ لپٹتی تھی

اس کی گردن مروڑ دی میں نے

Wednesday, 21 April 2021

مجھے مجھ سے ملاتی جا رہی ہے

 مجھے مجھ سے ملاتی جا رہی ہے

فقیری راس آتی جا رہی ہے

یہ مٹی میرے خال و خد چُرا کر

تِرا چہرہ بناتی جا رہی ہے

یہ کس کی یاد ہے جو میرے دل میں

مصلّے سے بچھاتی جا رہی ہے

Wednesday, 14 April 2021

کوئی فقیہہ نہ مرشد نہ پِیر ہیں جانی

 کوئی فقیہہ، نہ مرشد، نہ پِیر ہیں جانی

کہ ہم تو دامِ ہوس کے اسیر ہیں جانی

رُکے ہیں اک ذرا دہلیز چومنے کے لیے

چلے ہی جائیں گے ہم، راہگیر ہیں جانی

ترنگِ عشق سے خالی نہیں ہے جا کوئی

یہاں بِھٹائی، وہاں پر کبیر ہیں جانی

Saturday, 19 December 2020

زخم سب اس کو دکھا کر رقص کر

 زخم سب اس کو دکھا کر رقص کر

ایڑیوں تک خوں بہا کر رقص کر

جامۂ خاکی پہ مشتِ خاک ڈال

خود کو مٹی میں ملا کر رقص کر

اس عبادت کی نہیں کوئی قضا

سر کو سجدے سے اٹھا کر رقص کر

Monday, 26 October 2020

چشم وحشت یہ تری گریہ گزاری کم ہے

 چشمِ وحشت! یہ تِری گریہ گزاری کم ہے

غم زیادہ ہے، مگر سینہ فگاری کم ہے

اتنا چلائیں کہ قاتل کی رگیں پھٹ جائیں

رونے والو! ابھی آواز ہماری کم ہے

اس لیے بڑھتی چلی جاتی ہے لاشوں کی قطار

میری فرصت کے لیے زخم شماری کم ہے

Wednesday, 30 September 2020

اس نے دیکھی تھی مری تصویر پہچانی نہ تھی

 عکس کا حصہ طبیعت کی پریشانی نہ تھی

اس نے دیکھی تھی مِری تصویر، پہچانی نہ تھی

ڈھونڈ لیتا تھا میں اپنی ہر خرابی کا جواز

جیسا میں بدنام تھا، ویسی پشیمانی نہ تھی

اپنے بستر پر نہیں ہوتے ہوئے ہوتا تھا میں

اتنی ویرانی تھی کمرے میں کہ ویرانی نہ تھی

Tuesday, 8 September 2020

یہ کربلا ہے یہاں ہے حصار تشنہ لبی

عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ

یہ کربلا ہے یہاں ہے حصارِ تشنہ لبی
یہاں پہ آب و ہوا ہے شکار تشنہ لبی
یہاں کی خاک سے صیقل ہوئی طلائے فلک
یہاں کی خاک ہوئی زرنگار تشنہ لبی
اٹھایا چلو میں پانی اٹھا کے پھینک دیا
کہ اب فرات پہ ہے اختیار تشنہ لبی

ہے شہادت کہ ہلاکت کہ اجل بولتی ہے

عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ

ہے شہادت کہ ہلاکت کہ اجل بولتی ہے
مرضئ رب سرِ میدانِ جدل بولتی ہے
یہ زباں حق کی زباں ہے دمِ گفتار تو ہو
پھر ہو دربار کہ مقتل، کہ محل بولتی ہے
ایک وعدہ ہے فقط وعدۂ طفلئ حسینؑ
جس کو قاموسِ تغیّر بھی اٹل بولتی ہے