Saturday, 9 October 2021

دل کی دنیا جھنجوڑ دی میں نے

 دل کی دنیا جھنجوڑ دی میں نے

میری گلک تھی، پھوڑ دی میں نے

کل پیالہ اٹھا کے پھینکا تھا

آج بوتل بھی توڑ دی میں نے

زندگی روز آ لپٹتی تھی

اس کی گردن مروڑ دی میں نے

قدم اٹھتا نہیں، چھنکتا ہے

اس سے زنجیر جوڑ دی میں نے

میری شہ رگ تو کٹ گئی لیکن

تیری شمشیر موڑ دی میں نے

کیا کھلائے کوئی گلِ مضموں

ہائے یہ کیاری گوڑ دی میں نے

اب تو دن رات بڑبڑاتا ہوں

شاعری کب کی چھوڑ دی میں نے


عارف امام

No comments:

Post a Comment