خود سے جدا ہوئے تو کہیں کے نہیں رہے
یوں در بدر ہوئے کہ زمیں کے نہیں رہے
رشتے رفاقتوں کے رقابت میں ڈھل گئے
دیوار و در بھی اپنے مکیں کے نہیں رہے
ہجرت زدہ لباس میں پھرتے ہیں دربدر
رہنا تھا جس نگر میں وہیں کے نہیں رہے
خود سے جدا ہوئے تو کہیں کے نہیں رہے
یوں در بدر ہوئے کہ زمیں کے نہیں رہے
رشتے رفاقتوں کے رقابت میں ڈھل گئے
دیوار و در بھی اپنے مکیں کے نہیں رہے
ہجرت زدہ لباس میں پھرتے ہیں دربدر
رہنا تھا جس نگر میں وہیں کے نہیں رہے
جہاں بھی ظلم و تکبر مثال ہوتا ہے
عروجِ آدمِ خاکی زوال ہوتا ہے
کسی کا دل جو دُکھائے کسی کو تہمت دے
بدیر جلد بُرا اس کا حال ہوتا ہے
ہو گھاؤ خنجر و شمشیر کا تو بھر جائے
زباں کا زخم کہیں اندمال ہوتا ہے
ہیں ہمیں درد کی شدت سے نکھارے ہوئے لوگ
تم نے دیکھے ہیں کہاں جیت کے ہارے ہوئے لوگ
سارے ہی ہجر زدہ خواب کی تعبیر میں گم
سارے ہی خواب کی دنیا سے گزارے ہوئے لوگ
ایک ہم ہی تو نہیں دردِ شکستہ کی مثال
ایک ہم ہی تو نہیں پیار کے مارے ہوئے لوگ
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
اک بار مدینے کا سفر ہو تو کرم ہو
روضہ پہ پہنچ جاؤں تو پھر نعت رقم ہو
خواہش مجھے دنیا کی نہیں ہے مِرے آقاﷺ
اب جو بھی سفر ہو، سوئے بطحا و حرم ہو
منگتی ہوں تِرے در کی نہ خالی مجھے لوٹا
قائم یونہی بس میری دعاؤں کا بھرم ہو
اس کا مزاج بھی عجب ہے
سرد ہوا میں گیندے کے پھولوں کی اداس خوشبو بھی اسے پاگل کر دیتی ہے
اور میرے سر پر زرد دوپٹہ بھی
ذکیہ غزل
محبت سے جہاں تسخیر کرنا چاہتے ہیں
ہم اپنے خواب کو تعبیر کرنا چاہتے ہیں
ابھی تک اس دلِ وحشی کو سودا ہے جنوں کا
سو اس وحشت کو اب زنجیر کرنا چاہتے ہیں
نہیں ہے آبلہ پائیِ خواہش تھک چکے ہیں
سفر میں اب کہ ہم تاخیر کرنا چاہتے ہیں
اے درِ عشق کیا ضروری ہے
تجھ پہ دستک کو ہاتھ ہی اٹھے
در پہ تیرے کھڑے سوالی ہوں
اور دامن سبھی کے خالی ہوں
کوئی جھولی کے چھید تکتا ہو
دل کوئی اپنے غم میں یکتا ہو
👁 وہ انتظار کہ دہلیز ہو گئیں آنکھیں
تمہارے بعد کسی کام کی نہیں آنکھیں
نہ خال و خد ہیں سلامت نہ اپنی بینائی
بدن کے ساتھ ہی دیکھو بکھر گئیں آنکھیں
کسی کے گھر میں لگائی ہے آگ اپنوں نے
تماشہ دیکھ رہی ہیں، تماش بیں آنکھیں
بھیگا موسم، ☆تارے☆ گم صم، سرد اکیلی رات
چاند جو گزرا میں نے جھٹ سے کہہ دی دل کی بات
کجرا، گجرا، گنگن، پائل، بِرہا کے دُکھ روئیں
ہم تو جاگ کے رَین بِتائیں، ساجن چین سے سوئیں
مانگ میں تارہ، ماتھے چندا، سب زیور انمول
پر سجناں جب تم نہ ملو تو میں خالی کشکول
دل کو میرے یہ اعتبار ہے کیا؟
تیرے آنے کا انتظار ہے کیا؟
یوں اچانک کسی کے جانے سے
سارا عالم ہی سوگوار ہے کیا؟
بے سبب آج تیری یاد آئی
بے سبب دل بھی بے قرار ہے کیا؟
فاسق ہیں، منافق ہیں، ریا کار بہت ہیں
مطلب کے وفادار ہیں، غدار بہت ہیں
بندوں کی خطاؤں سے سوا ہے تِری رحمت
مالک مِرے، دنیا سے مِٹا دے سبھی کلفت
لب پر ہے دعا، آنکھ سے بہتا ہے سمندر
گر تیری رضا ہو تو پلٹ جائے مقدر
نظم
سر پہ گھٹری لدی ہے نفرت کی
بوجھ کاندھوں پہ ہے تعصب کا
بغض و کینہ کے ڈھیر ہیں دل میں
اور اک پوٹلی حسد کی ہے
سب سے وزنی منافقت کی عبا
اور چہرے پہ دوسرا چہرہ
خوف زدہ لمحوں کو جینا پڑتا ہے
تنہا ڈر کی آگ میں جلنا پڑتا ہے
جی جاتے ہیں تجھ کو بھول کے لیکن پھر
ہم کو تیری یاد میں مرنا پڑتا ہے
زخمی پوریں چیخیں تو احساس ہوا
اُدھڑا جیون کیسے سینا پڑتا ہے
ہیں ہمِیں درد کی شدت سے نکھارے ہوئے لوگ
تم نے دیکھے ہیں کہاں، جیت کے ہارے ہوئے لوگ
سارے ہی ہجر زدہ خواب کی تعبیر میں گم
سارے ہی خواب کی دنیا سے گزارے ہوئے لوگ
ایک ہم ہی تو نہیں دردِ شکستہ کی مثال
ایک ہم ہی تو نہیں پیار کے مارے ہوئے لوگ
قریۂ جاں مضطرب تو ہے، مگر خاموش ہے
یاد چوکھٹ پر کھڑی ہے اور گھر خاموش ہے
ایک بے چہرہ بدن کو نام دینے کے لیے
چاک سرگرمِ عمل ہے، کوزہ گر خاموش ہے
دل کی وہ آواز جس کو سن کے وہ پلٹا نہ تھا
وہ صدا، اب بھی ہوا کے دوش پر خاموش ہے