Showing posts with label ذکیہ غزل. Show all posts
Showing posts with label ذکیہ غزل. Show all posts

Saturday, 15 April 2023

خود سے جدا ہوئے تو کہیں کے نہیں رہے

 خود سے جدا ہوئے تو کہیں کے نہیں رہے

یوں در بدر ہوئے کہ زمیں کے نہیں رہے

رشتے رفاقتوں کے رقابت میں ڈھل گئے

دیوار و در بھی اپنے مکیں کے نہیں رہے

ہجرت زدہ لباس میں پھرتے ہیں دربدر

رہنا تھا جس نگر میں وہیں کے نہیں رہے

Sunday, 19 June 2022

جہاں بھی ظلم و تکبر مثال ہوتا ہے

 جہاں بھی ظلم و تکبر مثال ہوتا ہے

عروجِ آدمِ خاکی زوال ہوتا ہے

کسی کا دل جو دُکھائے کسی کو تہمت دے

بدیر جلد بُرا اس کا حال ہوتا ہے

ہو گھاؤ خنجر و شمشیر کا تو بھر جائے

زباں کا زخم کہیں اندمال ہوتا ہے

Thursday, 24 March 2022

ہیں ہمیں درد کی شدت سے نکھارے ہوئے لوگ

 ہیں ہمیں درد کی شدت سے نکھارے ہوئے لوگ

تم نے دیکھے ہیں کہاں جیت کے ہارے ہوئے لوگ

سارے ہی ہجر زدہ خواب کی تعبیر میں گم

سارے ہی خواب کی دنیا سے گزارے ہوئے لوگ

ایک ہم ہی تو نہیں دردِ شکستہ کی مثال

ایک ہم ہی تو نہیں پیار کے مارے ہوئے لوگ

Tuesday, 7 December 2021

اک بار مدینے کا سفر ہو تو کرم ہو

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


اک بار مدینے کا سفر ہو تو کرم ہو

روضہ پہ پہنچ جاؤں تو پھر نعت رقم ہو

خواہش مجھے دنیا کی نہیں ہے مِرے آقاﷺ

اب جو بھی سفر ہو، سوئے بطحا و حرم ہو

منگتی ہوں تِرے در کی نہ خالی مجھے لوٹا

قائم یونہی بس میری دعاؤں کا بھرم ہو

Wednesday, 23 June 2021

اس کا مزاج بھی عجب ہے

 اس کا مزاج بھی عجب ہے

سرد ہوا میں گیندے کے پھولوں کی اداس خوشبو بھی اسے پاگل کر دیتی ہے

اور میرے سر پر زرد دوپٹہ بھی


ذکیہ غزل

Saturday, 29 May 2021

محبت سے جہاں تسخیر کرنا چاہتے ہیں

 محبت سے جہاں تسخیر کرنا چاہتے ہیں

ہم اپنے خواب کو تعبیر کرنا چاہتے ہیں

ابھی تک اس دلِ وحشی کو سودا ہے جنوں کا

سو اس وحشت کو اب زنجیر کرنا چاہتے ہیں

نہیں ہے آبلہ پائیِ خواہش تھک چکے ہیں

سفر میں اب کہ ہم تاخیر کرنا چاہتے ہیں

Sunday, 14 March 2021

اے در عشق کیا ضروری ہے

اے درِ عشق کیا ضروری ہے

تجھ پہ دستک کو ہاتھ ہی اٹھے

در پہ تیرے کھڑے سوالی ہوں

اور دامن سبھی کے خالی ہوں

کوئی جھولی کے چھید تکتا ہو

دل کوئی اپنے غم میں یکتا ہو

Thursday, 11 March 2021

وہ انتظار کہ دہلیز ہو گئیں آنکھیں

👁 وہ انتظار کہ دہلیز ہو گئیں آنکھیں

تمہارے بعد کسی کام کی نہیں آنکھیں

نہ خال و خد ہیں سلامت نہ اپنی بینائی

بدن کے ساتھ ہی دیکھو بکھر گئیں آنکھیں

کسی کے گھر میں لگائی ہے آگ اپنوں نے

تماشہ دیکھ رہی ہیں، تماش بیں آنکھیں

Tuesday, 2 March 2021

بھیگا موسم تارے گم صم سرد اکیلی رات

 بھیگا موسم، ☆تارے☆ گم صم، سرد اکیلی رات

چاند جو گزرا میں نے جھٹ سے کہہ دی دل کی بات

کجرا، گجرا، گنگن، پائل، بِرہا کے دُکھ روئیں

ہم تو جاگ کے رَین بِتائیں، ساجن چین سے سوئیں

مانگ میں تارہ، ماتھے چندا، سب زیور انمول

پر سجناں جب تم نہ ملو تو میں خالی کشکول

Monday, 11 January 2021

دل کو میرے یہ اعتبار ہے کیا

 دل کو میرے یہ اعتبار ہے کیا؟

تیرے آنے کا انتظار ہے کیا؟

یوں اچانک کسی کے جانے سے

سارا عالم ہی سوگوار ہے کیا؟

بے سبب آج تیری یاد آئی

بے سبب دل بھی بے قرار ہے کیا؟

Saturday, 9 January 2021

فاسق ہیں منافق ہیں ریا کار بہت ہیں

 فاسق ہیں، منافق ہیں، ریا کار بہت ہیں

مطلب کے وفادار ہیں، غدار بہت ہیں

بندوں کی خطاؤں سے سوا ہے تِری رحمت

مالک مِرے، دنیا سے مِٹا دے سبھی کلفت

لب پر ہے دعا، آنکھ سے بہتا ہے سمندر

گر تیری رضا ہو تو پلٹ جائے مقدر

Monday, 28 December 2020

خیر کی سمت جا نہیں سکتے

 نظم


سر پہ گھٹری لدی ہے نفرت کی

 بوجھ کاندھوں پہ ہے تعصب کا

بغض و کینہ کے ڈھیر ہیں دل میں 

اور اک پوٹلی حسد کی ہے

سب سے وزنی منافقت کی عبا

اور چہرے پہ دوسرا چہرہ

Sunday, 27 December 2020

خوف زدہ لمحوں کو جینا پڑتا ہے

 خوف زدہ لمحوں کو جینا پڑتا ہے

تنہا ڈر کی آگ میں جلنا پڑتا ہے

جی جاتے ہیں تجھ کو بھول کے لیکن پھر

ہم کو تیری یاد میں مرنا پڑتا ہے

زخمی پوریں چیخیں تو احساس ہوا

اُدھڑا جیون کیسے سینا پڑتا ہے

Thursday, 3 December 2020

ہیں ہمیں درد کی شدت سے نکھارے ہوئے لوگ

 ہیں ہمِیں درد کی شدت سے نکھارے ہوئے لوگ

تم نے دیکھے ہیں کہاں، جیت کے ہارے ہوئے لوگ

سارے ہی ہجر زدہ خواب کی تعبیر میں گم

سارے ہی خواب کی دنیا سے گزارے ہوئے لوگ

ایک ہم ہی تو نہیں دردِ شکستہ کی مثال

ایک ہم ہی تو نہیں پیار کے مارے ہوئے لوگ

Sunday, 15 November 2020

قریہ جاں مضطرب تو ہے مگر خاموش ہے

 قریۂ جاں مضطرب تو ہے، مگر خاموش ہے

یاد چوکھٹ پر کھڑی ہے اور گھر خاموش ہے

ایک بے چہرہ بدن کو نام دینے کے لیے

چاک سرگرمِ عمل ہے، کوزہ گر خاموش ہے

دل کی وہ آواز جس کو سن کے وہ پلٹا نہ تھا

وہ صدا، اب بھی ہوا کے دوش پر خاموش ہے