اے درِ عشق کیا ضروری ہے
تجھ پہ دستک کو ہاتھ ہی اٹھے
در پہ تیرے کھڑے سوالی ہوں
اور دامن سبھی کے خالی ہوں
کوئی جھولی کے چھید تکتا ہو
دل کوئی اپنے غم میں یکتا ہو
کوئی امید لے کے آیا ہو
ساتھ سوغاتِ درد لایا ہو
کوئی چھالے دکھا کے کہتا ہو
ہے کوئی جو یہ درد سہتا ہو
کوئی دشتِ جنوں، کا مجنوں ہو
کوئی فرہاد، کوئی پنوں ہو
دل دریدہ ہیں، اور سبھی بے گھر
کھول دے، روزنِ دیوار و در
اے درِ عشق! یہ تغافل کیوں
اب ہے کھلنے میں یہ تأمّل کیوں
وا درِ محترم ہو ہم پر بھی
کچھ تو چشمِ کرم ہو ہم پر بھی
یہ حقیقت ہے کچھ قیاس نہیں
تیری فرقت کسی کو راس نہیں
ذکیہ غزل
No comments:
Post a Comment