پہلے اِک بوجھ تھا کیوں خواب نہیں دِکھتے ہیں
اور جب خواب نظر آیا تو یہ فکر ہوئی
اس کی تعبیر خدا جانے کہ کیسی ہو گی
اور تعبیر نظر آئی تو دل کانپ گیا
آنکھ گھبرائی کہ تعبیر یہ کیسی پائی
اب اگر سوئے تو پھر خواب دکھائی دے گا
اور اگر جاگے تو تعبیر نظر آئے گی
اب اسی خوف میں یہ عمر گزر جائے گی
طارق عزیز
No comments:
Post a Comment