بچہ جمہورا
مہربان قدردان حیران پریشان
میری جان تیری جان
نیچے پان کی دکان اوپر گوری کا مکان
سب سے پہلے پاکستان
بچہ جمہورا
بچہ جمہورا
مہربان قدردان حیران پریشان
میری جان تیری جان
نیچے پان کی دکان اوپر گوری کا مکان
سب سے پہلے پاکستان
بچہ جمہورا
شیخ چلی
ریشم کا کیڑا
اپنا کفن بنتے بنتے
ننگا مر جاتا ہے
شہد کی مکھی
موم بناتے بناتے
لالچ
میرے اجداد کاعقیدہ آواگون تھا
میں پچھلے جنم میں ساگوان تھا
مجھ سے چھپّر بنا
نُوحؑ کی کشتی بنی
میں نے سائے کو جنم دیا
منافقت کہاں نہیں تھی
منافقت پہلے پردہ کرتی تھی
شرماتی تھی
اب سرِ شام بن سنور کر
ثقافتی مرکز میں بیٹھی
سِگریٹ کا دھواں اڑاتی ہے
شاعری سے چولہا کہاں جلتا ہے
مادام
جب آپ کے نتھنوں سے بدبو کے بھبکے ٹکرائیں
تو سمجھ جانا یہ میرا لاوارث علاقہ ہے
آگے کچرے کا ڈھیر
ڈھیر پر کھیلتے بچے