Saturday, 21 November 2020

شاعری سے چولہا کہاں جلتا ہے

شاعری سے چولہا کہاں جلتا ہے


مادام

جب آپ کے نتھنوں سے بدبو کے بھبکے ٹکرائیں

تو سمجھ جانا یہ میرا لاوارث علاقہ ہے

آگے کچرے کا ڈھیر

ڈھیر پر کھیلتے بچے

ان بچوں کو پیار مت کرنا

جراثیم سے بھرے ہیں

(مستقبل کے جرائم پیشہ افراد)

ان کے ہاتھوں کی لکیر مت دیکھنا

غربت کی لکیر نظر آئے گی

بچیاں اپنے ہاتھوں کو چھپائیں گی

ان کے ہاتھوں پر چھالے ہیں


پھر آپ کو گٹگا کھانے والی قوم ملے گی

یہ میری قوم ہے

ان سے گفتگومت کرنا

یہ زہر اگلتی ہے

پھر میری ماں ملے گی

بد دعاؤں سے آپ کا استقبال کرے گی

آگے دائیں، پھِر بائیں

میرا باپ راکٹ بناتا ملے گا

کچھ دیرمیں خلاؤں کے سفر پر روانہ ہو گا

قدم آگے بڑھاؤ، ہم تمہارے ساتھ ہیں

یہ کُٹیا ہے

میری تین نابینا بہنیں منتظر ہیں

یہ پیدائشی اندھی نہیں

تہہ خانے میں رہنے کی وجہ سے دنیا دیکھنے سے قاصر ہیں

یہ آپ کو ٹٹولیں گی

خوش ہوں گی

پھر آپ کو تڑے مڑے کاغذوں کے درمیان

ایک تپ دق زدہ انسان نما ملے گا

یہ میں ہوں

اور تڑے مڑے کاغذات میری نظمیں ہیں

ان کاغذوں میں سے ماں ایک کاغذ اٹھائے گی

چولہاجلائے گی

اور کہے گی

شاعری سے چولہا کہاں جلتا ہے؟


وجیہہ وارثی

No comments:

Post a Comment