Saturday, 21 November 2020

اماں میرا بیاہ نہ کرنا کبھی

ایک طمانچہ روایات کی دھول سے اٹے چہروں پہ


میں انہماک سے پوچھتی ہوں

اماں! تُو دن بھر چولہا چوکھٹ کرتی ہے

شام کو پھر ابا کی دھتکار بھی سہتی ہے

چپ کے آنگن میں گنگ نیر بہاتی ہے

اپنے حق میں کیوں لب نہیں کھولتی ہے؟


اماں میرا بیاہ نہ کرنا کبھی

مِرے ہاتھ چومتی اماں روہانسی ہو کر کہتی ہے

دھی رانی! بی اے پاس کر لے

یہ سیاہی تِرے بخت میں نئیں ہو گی


ماہم ارشد

No comments:

Post a Comment